نئی دہلی، 8 جون (یواین آئی) راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے ترنمول کانگریس کے رکن سکھیندو شیکھر رائے کا ایوان کی رکنیت سے استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔ انہوں نے پیر کے روز ہی اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا۔
راجیہ سبھا سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بلیٹن کے مطابق مسٹررائے کا استعفیٰ آج ہی سے مؤثر مانتے ہوئے قبول کر لیا گیا ہے اور ان کی نشست کو خالی قرار دے دیا گیا ہے۔ وہ مغربی بنگال سے راجیہ سبھا کے رکن تھے۔
اس سے قبل سکھندو شیکھر رائے نے ایک پریس بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے ترنمول کانگریس کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے ساتھ ساتھ راجیہ سبھا کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے ووٹروں نے 15 برس سے برسرِ اقتدار ترنمول کانگریس کو بدعنوانی، خواتین کے خلاف تشدد، تعلیم، صحت، صنعت، روزگار اور امن و امان سمیت تمام شعبوں میں بری طرح ناکام رہنے پر اقتدار سے باہر کر دیا ہے۔ مغربی بنگال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بڑی تعداد میں نشستیں جیتی ہیں۔
مسٹررائے نے مزید کہا کہ اس دوران نئی منتخب شدہ بی جے پی حکومت نے اپنے انتخابی منشور کے مطابق مغربی بنگال کی ہمہ جہت ترقی اور تعمیر نوکے لیے مختلف پروگرام لاگو کرنے کے لئے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا: "میں عوام کے اس تاریخی فیصلے کو عاجزی کے ساتھ قبول کرتا ہوں اور ترنمول کانگریس کی بنیادی رکنیت اور راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دیتا ہوں۔”
قابلِ ذکر ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس کی بھاری شکست کے بعد متعدد رہنماؤں نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔









