کچھ کوگوں کو اعتراض ہے‘اس بات پر اعتراض ہے کہ میڈم…….میڈم محبوبہ جی اونتی پورہ میں زیر تعمیر آل انڈیا میڈیکل سائنسز انسٹچوٹ(ایمز) کیوں گئیں ‘ اگر گئیں تو گئیں‘ لیکن محترمہ نے وہاں ایک میٹنگ میں جاری کام کا جائزہ کیوں لیا اور کس حیثیت میں لیا ۔ اس بات پر کچھ لوگوں کو اعتراض ہے اور چاہتے ہیں کہ میڈم جی اپنی اس ‘غلطی‘ کا اعتراف کریں اور توبہ بھی ۔ان میں اپنے سجاد لون صاحب پیش پیش ہیں جنہیں نہ جانے میڈم جی کا کس بات کا غصہ ہے جووہ غصے سے جل بھن گئے ہیں اور میڈم جی کو خوب سنائی ۔نہیں صاحب ہم اظہار آزاد ی کے معترف ہیں اس لئے سجاد لون صاحب نےجو کہاہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ ……. کہ اگر ہمیں اعتراض ہے تو اس ایک بات پر ہے کہ سجاد لون کو اعتراض کیوں ہے ……. بس اسی ایک بات کا ہمیں اعتراض ہے ۔اور اللہ میاں کی قسم یہ اعتراض بے جا نہیں ہے ‘ بالکل بھی نہیں ہے ۔ میڈم جی ٹھہریں ایک سیاستدان ‘ جموںکشمیر ریاست کی آخری وزیرا علیٰ بھی ‘سابقہ ممبر اسمبلی کے علاوہ سابقہ ممبر پارلیمنٹ بھی اور ……. ظاہر ہے کہ ان مختلف حیثیتوں نے میڈم جی کو ایک حیثیت بخشی تھی …….اور یہ بات میڈم جی بھول نہیں پا رہی ہیں ۔ انہیں پانی آرہا ہے ‘ منہ میں پانی آرہا ہے ‘ جب وہ وزیراعلیٰ تھیں تو ایسی جائزہ میٹنگیں زور کیا کرتی تھیں اور اسی بات کاانہیں منہ میں پانی آرہاہے ۔ میڈم جی بیتے دنوں کی یادوں ……. سنہری یادوں کو بھول نہیں پا رہے ہیں ‘ ان سے اپنا دامن نہیں چھڑا پا رہی ہیں اور …….اور اگر اسی کیفیت میں میڈم جی ایمز اونتی پورہ گئیں اور جائزہ میٹنگ کیں تو اللہ میاں کی قسم ہم سمجھتے سکتے ہیں ……. یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یاد ماضی سچ میں ایک عذاب ہے اور …….اور میڈم جی یہ عذاب اب جھیل رہی ہیں ‘ برداشت کررہی ہیں ‘مزید کتنے برسوں کیلئے ہم نہیں جانتے ہیں ……. لیکن محترمہ بر داشت کررہی ہیں …….میڈم جی کو برداشت کرنا ہو گا اور ……. اور اس لئے کرنا ہو گا کہ ایسی کسی پوزیشن میں آناکہ محترمہ پھر سے جائزہ میٹنگ کی صدارت کریں ایک خواب ہے ……. ایک ایسا خواب جس کو پورا ہونے میں پتہ نہیں کتنا وقت لگے گا …….پتہ نہیں کہ یہ خواب کبھی پورا ہو گا بھی یا نہیں ۔ اس لئے سجاد لون صاحب میڈم جی کی اس بات ‘ اس کیفیت کو سمجھ لیجئے اور …….اور سمجھ کر انہیں معاف کیجئے ۔ کہ میڈم جی غصے کی نہیں بلکہ ہمدردی کی مستحق ہیں۔ ہے نا؟




