کہتے ہیں کہ جواب نہ دینا بھی ایک جواب ہو تا ہے اور اپنے گورے گورے بانکے چھورے وزیرا علیٰ ‘ عمرعبداللہ نے میڈم جی …….میڈم محبوبہ جی کے خط کا جواب نہ دی کر بھی جواب دیا ہے ۔جواب یہ ہے کہ کشمیر میں ہر ایک سیاسی جماعت اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد تک ہی محدود رہے …….اپنے کام سے کام رکھے اور دوسری سیاسی جماعتوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے کہ دوسری سیاسی جماعتیں بھی کوئی بھی فیصلہ لینا کا حق رکھتی ہیں اور آزاد بھی ہیں ۔وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ ان کی جماعت کے سبھی ممبران اسمبلی اور پارلیمنٹ دہلی جائیں گے اور پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن کسی مناسب جگہ پر دھرنا دیں گے ‘احتجاج کریں گے ……. ریاستی درجے کی بحالی کے حق میں احتجاج کریں گے ۔یہ بھی جواب ہے‘ ایک واضح جواب ہے کہ نیشنل کانفرنس کو ریاستی درجے کی بحالی کیلئے کسی بھی مشترکہ جد وجہد میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ……. بھلے ہی اس سے منزل دور ہی کیوں نہ ہو جائے ……. بھلے ہی اس سے ریاستی درجے کی بحالی کے حصول میں کوئی مدد نہ مل جائے اور بھلے ہی اس سے الٹا نقصان ہی کیوں نہ ہو جائے ……. لیکن وہ کسی کو ساتھ لے کر چلنے کے حق میں نہیں ہے …….حتیٰ کہ کانگریس کو ساتھ لینے کے حق میں بھی نہیں ہے ……. وہ کانگریس جو نیشنل کانفرنس کی اتحادی جماعت ہے ‘ جس نے نیشنل کانفرنس کے ساتھ مل کر الیکشن لڑا ……. حالانکہ اس پورے الیکشن کے دوران کانگریس کی مرکزی قیادت ‘ بالخصوص اس کے راہل گاندھی نے کسی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ……. لیکن پھر بھی کانگریس ہے تو اتحادی ہی……. ایل ایسا اتحادی جس کو نیشنل کانفرنس نے داچھی گام کی سیر ……. معاف کیلئے داچھی گام میں ہونے والے سیر حاصل بحث و مباحثہ میں بھی مدعو نہیں کیا ……. بالکل بھی نہیں کیا ۔اس سب سے نیشنل کانفرنس اگر کوئی پیغام دینا چاہتی ہے یا دے رہی ہے تو وہ یہی ہے کہ ……. کہ بھلے ہی یہ جموںکشمیر کی سب سے پرانی سیاسی جماعت ہے ‘ عمر میں سب سے بڑھی ہے ‘ لیکن …….لیکن اس نے سچ میں اپنے بال دھوپ میں سفید کئے ہیں ‘ اس نے کچھ سیکھا نہیں ہے ……. یہ نہیں سیکھا ہے کہ بڑے مقاصد کے حصول کیلئے چھوٹی موٹی باتوں کو چھوٹا ہی رہنے دیا جانا چاہئے ……. لیکن صاحب این سی اس کیلئے تیار نہیں ہے ‘ وہ اپنے خول سے باہر آنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ہے……. بالکل بھی نہیں رکھتی ہے اور یہی پیغام اور جواب اس نے میڈم جی ……. میڈم محبوبہ جی کو دیا ہے ۔ ہے نا؟




