مقامی کاروباری حلقوں میں تشویش/’مرمت کا کام ضروری ہے ‘
ایجنسیز
سرینگر؍۲جون
سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈہ یکم اکتوبر سے۱۵ روز کے لیے مکمل طور پر بند رہے گا تاکہ رن وے کی ضروری مرمت اور دیکھ بھال کا کام انجام دیا جا سکے۔ حکام نے منگل کو یہ اطلاع دی۔
دو ہفتوں پر مشتمل اس بندش سے جموں و کشمیر کی سیاحتی صنعت کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ دورانیہ درگا پوجا کی تعطیلات کے عروج کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔
روایتی طور پر اس عرصے کے دوران مغربی بنگال سے بڑی تعداد میں سیاح وادی کشمیر کا رخ کرتے ہیں، اور سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کو خدشہ ہے کہ ہوائی اڈے کی بندش کے باعث بکنگ منسوخ ہوں گی اور بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑے گا۔
ہوائی اڈے کے حکام کے مطابق مکمل بندش سے قبل مرحلہ وار مرمتی شیڈول نافذ کیا جائے گا۔ جولائی سے ہر ہفتے دو دن ہوائی اڈے کی سرگرمیاں معطل رہیں گی، جبکہ یکم اکتوبر سے۱۵؍ اکتوبر تک مکمل بندش نافذ ہوگی۔
حکام نے بتایا کہ رن وے کی مرمت فضائی آپریشنز کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق۶ اپریل سے بھارتی فضائیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹس ٹو ایئرمین کے بعد پروازوں پر بعض پابندیاں پہلے ہی نافذ ہیں۔
جاری انجینئرنگ کام کے باعث ہوائی اڈے کے آپریشنل اوقات میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس وقت پروازیں صرف صبح۸بجے سے شام۵بجے تک چل رہی ہیں، جبکہ پہلے یہ وقت شام۷ بجے سے رات۱۰بجے تک تھا۔
اکتوبر میں مکمل بندش کے پیش نظر ہوٹل اور سفری صنعت سے وابستہ افراد نے حکام سے شیڈول پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سال کے مصروف ترین سیاحتی سیزن میں فضائی رابطہ منقطع ہونے سے مقامی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کشمیر کی سیاحتی صنعت ایک مشکل دور کے بعد بحالی کے آثار دکھا رہی تھی اور حالیہ ہفتوں میں سیاحوں کی آمد میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا تھا۔
جموں و کشمیر ہوٹلیئرز کلب کے صدر مشتاق احمد چھایا نے کہا کہ اس فیصلے کا وقت انتہائی نامناسب ہے اور اس سے سیاحتی شعبہ متاثر ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’سیاحت دوبارہ فروغ پا رہی تھی، لیکن یہ ہدایت اس رفتار کو متاثر کرے گی۔ ہم حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ مرمتی کام کے لیے متبادل طریقہ کار اختیار کیا جائے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ وادی کے واحد شہری ہوائی اڈے کی ہفتے میں دو روز بندش سیاحوں اور مقامی باشندوں دونوں کے سفری منصوبوں کو متاثر کرے گی۔
چھایا کا کہنا تھا، ’’سری نگر ہوائی اڈہ کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والا بنیادی فضائی رابطہ ہے۔ ہر ہفتے دو دن کی بندش کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ مکمل بندش کے بجائے ایسا نظام اختیار کیا جانا چاہیے جس کے تحت مرمتی کام کے ساتھ پروازیں بھی جاری رہ سکیں۔‘‘
ٹریول ایجنٹس سوسائٹی آف کشمیر کے صدر‘ محمد ابراہیم سیہ نے اس فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ شیڈول کو حتمی شکل دینے سے قبل سیاحتی صنعت کے نمائندوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا، ’’یہ افسوسناک ہے کہ متعلقہ فریقوں سے مشورہ کیے بغیر ایسا فیصلہ لیا گیا۔ اگر ہفتے میں دو دن ہوائی اڈہ بند رہے گا تو بکنگ کی منسوخی ناگزیر ہوگی اور باقی دنوں میں مسافروں کا غیر معمولی دباؤ پیدا ہوگا۔‘‘
سیہ نے کہا کہ سری نگر ہوائی اڈہ پہلے ہی بنیادی ڈھانچے اور گنجائش کے مسائل سے دوچار ہے اور محدود آپریشنل دنوں میں اضافی مسافروں کا بوجھ سنبھالنا مشکل ہوگا۔ان کے مطابق، ’’ہمارا ہوائی اڈہ محدود دنوں میں غیر معمولی رش سنبھالنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس فیصلے سے مسافروں کو مشکلات پیش آئیں گی اور ممکنہ سیاحوں کی دلچسپی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔‘‘
ٹریول ایجنٹ فرح رشید نے بھی دوروں کی منصوبہ بندی اور سیاحوں کے اعتماد پر پڑنے والے اثرات پر تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی صارفین پہلے ہی اس حوالے سے سوالات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’بہت سے سیاح مختصر دورانیے کے لیے کشمیر آتے ہیں اور مخصوص دنوں میں ہوائی اڈے کی بندش ان کے سفری پروگرام متاثر کر سکتی ہے۔ خاص طور پر خاندانوں اور گروپوں کی جانب سے بکنگ منسوخ یا مؤخر کیے جانے کا خدشہ موجود ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ سفری اداروں کو بھی بکنگ، ہوٹل ریزرویشن اور مقامی ٹرانسپورٹ کے شیڈول ازسرِ نو ترتیب دینے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا جس سے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ بھارتی فضائیہ نے فروری میں ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا اور سری نگر کے لیے پروازیں چلانے والی ایئر لائنز کو ایک مراسلہ جاری کرتے ہوئے یکم اگست سے۱۵؍ اکتوبر تک ہفتہ اور اتوار کے دن ہوائی اڈہ بند رکھنے کی تجویز دی تھی تاکہ رن وے کی ازسرِ نو سطح سازی کا کام انجام دیا جا سکے۔ تاہم ہوائی اڈے کے حکام کے مطابق اب اس شیڈول میں ترمیم کر دی گئی ہے۔
ایک ہوائی اڈہ عہدیدار نے بتایا، ’’ہفتہ اور اتوار کے بجائے اب یکم جولائی سے اگلے تین ماہ تک ہر پیر اور منگل کو ہوائی اڈہ بند رہے گا۔ ستمبر کے بعد کے آپریشنز کے بارے میں فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔‘‘
سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد نے حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ بندش کے شیڈول پر دوبارہ غور کریں یا مرمتی کام کو مرحلہ وار انجام دینے کا طریقہ اپنائیں تاکہ کشمیر کے اہم ترین سیاحتی موسم کے دوران کم سے کم خلل پیدا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ فضائی رابطے میں طویل تعطل سیاحوں کی آمد، ہوٹلوں کی بکنگ اور سیاحت سے وابستہ وسیع کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔










