انسدادِ دہشت گردی کارروائی گیارہویں روز بھی جاری رہی
ایجنسیز
جموں ؍۲جون
وائٹ نائٹ کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا نے منگل کے روز راجوری ضلع کے گھنے جنگلات میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائی ’آپریشن شیروالی‘کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن اب اپنے گیارہویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔
کور کمانڈر نے جی او سی کاؤنٹر انسرجنسی فورس (سی آئی ایف) رومیو کے ہمراہ گمبھیر مغلاں علاقے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا اور ان مشتبہ دہشت گردوں کی تلاش کے لیے جاری کوششوں کا معائنہ کیا جو منجاکوٹ سیکٹر کے جنگلاتی علاقے میں چھپے ہونے کا شبہ ہے۔
فوج کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل مشرا کو آپریشن کی حکمتِ عملی، جاری کارروائیوں اور فوجیوں کی جانب سے اختیار کیے گئے انتظامی و لاجسٹک اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے دشوار گزار علاقے میں تعینات فورسز کو فراہم کی جانے والی لاجسٹک معاونت کا بھی جائزہ لیا۔
وائٹ نائٹ کور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا’’جی او سی وائٹ نائٹ کور نے جی او سی سی آئی ایف رومیو کے ہمراہ گمبھیر مغلاں کے عمومی علاقے کا دورہ کیا اور آپریشن شیروالی کی پیش رفت اور زمینی آپریشنل صورتحال کا جائزہ لیا‘‘۔
فوج کے مطابق کور کمانڈر نے جوانوں کی ثابت قدمی، پیشہ ورانہ صلاحیت اور آپریشنل ذمہ داریوں کی مؤثر انجام دہی کو سراہا۔
فوج نے کہا کہ انہوں نے تمام رینکس کے بلند حوصلے، مسلسل توجہ اور آپریشنل اہداف کے حصول کے لیے مضبوط عزم کی تعریف کی۔
فوج نے مزید کہا کہ وائٹ نائٹ کور خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے مسلسل اور مؤثر آپریشنز جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔ بیان میں کہا گیا’’تلاش جاری ہے‘‘۔
یہ آپریشن۲۳ مئی کو اس وقت شروع کیا گیا تھا جب راجوری ضلع کے دوریمل-گمبھیر مغلاں علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں۔ سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے مشتبہ دہشت گردوں سے رابطہ قائم کیا جس کے بعد تصادم شروع ہو گیا۔
حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو باہر نکالنے کی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں مربوط تلاشی کارروائیاں اور مشتبہ ٹھکانوں پر ہدفی فائرنگ کی جا رہی ہے، جبکہ کثیر نالی گرینیڈ لانچروں (ملٹی بیرل گرینیڈ لانچرز) کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ ٹھکانے گھنے جنگلات، گہری کھائیوں اور قدرتی غاروں پر مشتمل دشوار گزار علاقوں میں واقع ہیں۔
پیر کے روز سکیورٹی فورسز نے علاقے میں ایک مختصر فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک خفیہ ٹھکانے کا سراغ لگایا اور وہاں خون کے نشانات بھی پائے گئے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فرار ہونے والے دہشت گرد زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم حکام کے مطابق اب تک کسی دہشت گرد کو ہلاک نہیں کیا جا سکا ہے۔
اس سے ایک روز قبل لیفٹیننٹ جنرل پی کے مشرا نے جی او سی ’ایس آف اسپیڈز‘ ڈویژن کے ہمراہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے اگلے مورچوں کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔
دورے کے دوران انہوں نے فوجیوں سے ملاقات کی اور نگرانی کے نظام، درست نشانہ لگانے کی صلاحیت اور مستقبل کی جنگی تیاریوں کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کے مطابق انہوں نے ایل او سی پر مکمل غلبہ برقرار رکھنے کے لیے فوج کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔










