اس وقت عارضی طور پر جنگ بندی جیسی صورتحال موجود ہے، تاہم ہم اگلے مرحلے کیلئے بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں:جنرل
دیویدی
ایجنسیز
پونے؍۳۰مئی
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اوپیندر دیویدی نے ہفتہ کے روز کہا کہ اگر ضرورت پیش آئی تو مسلح افواج ’آپریشن سندور۲ء۰‘ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تینوں افواج جدید کثیر جہتی جنگی حکمتِ عملی کے لیے باہمی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں، جو صرف خشکی، فضاء اور سمندر تک محدود نہیں رہے گی۔
یہاں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) کے۱۵۰ویں کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل دویدی نے کہا کہ اگرچہ اس وقت عارضی طور پر جنگ بندی جیسی صورتحال موجود ہے، تاہم تینوں افواج اگلے مرحلے کیلئے بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں۔
واضح رہے کہ اپریل۲۰۲۵میں پہلگام دہشت گرد حملے میں۲۶؍افراد کی ہلاکت کے بعد بھارت نے مئی۲۰۲۵ میں پاکستان میں دہشت گردی کے ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے ’’آپریشن سندور‘‘ شروع کیا تھا۔
جنرل دویدی نے کہا، ’’جہاں تک آپریشن سندور کا تعلق ہے، سب سے پہلے یہ اب بھی جاری ہے۔ اس وقت صرف عارضی طور پر دشمنی کا خاتمہ ہوا ہے۔ لہٰذا بھارتی فوج اور تینوں افواج آپریشن سندور۲ء۰کے لیے بھرپور تیاری کر رہی ہیں، اگر اس کی ضرورت پیش آتی ہے۔‘‘
فوجی سربراہ نے کہا کہ مستقبل کی جنگیں صرف زمینی، بحری اور فضائی میدانوں تک محدود نہیں ہوں گی بلکہ خلائی، سائبر اور ذہنی (کگنیٹو) جنگ جیسے نئے شعبے ان پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
جنرل دویدی نے کہا کہ جدید جنگی میدان انتہائی شفاف ہو چکے ہیں اور فوجی منصوبہ سازوں کو تعیناتیوں اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے انتہائی محتاط رہنا ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’ہم نے وقت کے ساتھ دیکھا ہے کہ نگرانی چوبیس گھنٹے جاری رہتی ہے۔ جنگی میدان اس قدر شفاف ہو چکا ہے کہ ہر نقل و حرکت مخالف فریق کو معلوم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی تعیناتی، استعمال اور اپنے فوجیوں کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے تحفظ کے لیے انتہائی محتاط رہنا ہوگا۔‘‘
آپریشن سندور سے حاصل ہونے والے معلوماتی جنگ کے اسباق کا ذکر کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ عوامی اعتماد اور قومی یکجہتی مستقبل کے تنازعات میں فیصلہ کن عوامل ہوں گے۔انہوں نے کہا، ’’فتح ہمیشہ ذہن میں حاصل ہوتی ہے، زمین پر نہیں۔ اس لیے معلوماتی جنگ اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب پورا ملک متحد ہو اور ان لوگوں پر اعتماد کرے جو معلومات فراہم کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’اگر ایسا ہوتا ہے تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ قوم جو ایک دوسرے پر اور تمام متعلقہ فریقوں پر اعتماد کرتی ہے، ہمیشہ جنگ جیتتی ہے۔‘‘
جنرل دویدی نے کہا کہ آپریشن سندور نے بھارت کے عزم اور مسلح افواج کی اس صلاحیت کو اجاگر کیا کہ وہ نپی تلی، درست اور بامقصد کارروائی انجام دے سکتی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اس آپریشن نے مربوط منصوبہ بندی، حقیقی وقت کی انٹیلی جنس، درست نشانہ بندی، مضبوط فضائی دفاع، محفوظ مواصلاتی نظام اور مختلف شعبوں میں ہم آہنگی کی اہمیت کو نمایاں کیا۔‘‘
آرمی چیف نے کہا کہ بھارتی فوج جدید کاری اور تبدیلی کے عمل سے پوری طرح آگاہ ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم ’تبدیلی کی دہائی‘ کے تحت خود کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ فوج میں تبدیل کر رہے ہیں، جس میں نوجوان نسل کا کردار نہایت اہم ہوگا۔‘‘انہوں نے بتایا کہ انڈسٹریل ڈرون بٹالینز، دیویہ استر بیٹریاں، شکتی مان رجمنٹس، بھیرَو بٹالینز اور دیگر ٹیکنالوجی سے لیس ڈھانچوں کا قیام اسی تبدیلی کا حصہ ہے۔
جنرل دویدی نے کہا کہ اگلا بڑا قدم نیٹ ورکنگ اور ڈیٹا پر مبنی نظام ہے، جہاں ڈیٹا ایک اسٹریٹجک اثاثہ بن جائے گا اور فیصلہ سازی زیادہ تیز، ذہین اور مضبوط ہوگی۔
ڈرونز اور دیگر مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں کے استعمال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے وہ ’’ایگل آن دی آرم‘‘ کا تصور پیش کر رہے ہیں۔
فوج کے سربراہ نے کہا، ’’اس کا مطلب ہے کہ ہر سپاہی کے ہاتھ میں ایک ’عقاب‘ ہونا چاہیے۔ ہر فوجی کو ڈرون اڑانے کی صلاحیت حاصل ہونی چاہیے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہماری اکیڈمیوں اور دیگر مقامات پر اس کی تربیت جاری ہے اور سمیولیٹرز بھی دستیاب ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ طویل عرصے سے زیر غور فوجی تھیٹرائزیشن کا عمل ’’درست سمت‘‘ میں آگے بڑھ رہا ہے۔ چیفز آف اسٹاف کمیٹی کے اندر مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور اس حوالے سے رپورٹ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو جائزے کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ ڈھانچے میں تینوں افواج کے تمام بڑے خدشات اور مفادات کو شامل کیا گیا ہے۔
جنرل دویدی کے مطابق سروس چیفس بدستور ’’بھرتی، تربیت اور برقرار رکھنے‘‘ کی ذمہ داری نبھاتے رہیں گے، جبکہ تھیٹر کمانڈرز کو فوجی کارروائیوں کی عملی قیادت سونپی جائے گی۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں امید ہے کہ نئے چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) کے تحت قائم ہونے والا نیا نظام اس عمل کو آگے بڑھائے گا اور اگلے دو سے تین برسوں میں ہم اسے زمینی سطح پر حقیقت بنتے دیکھ سکیں گے۔‘‘
اس سے قبل جنرل دویدی نے این ڈی اے کھڑکواسلا میں۱۵۰ویں کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور نے اس بات کا معیار قائم کیا ہے کہ جب قومی عزم کو درستگی اور پختہ ارادے کے ساتھ ظاہر کیا جائے تو بھارت اشتعال انگیزی کا کس طرح جواب دیتا ہے۔
جنرل دیویدی نے کہا، ’’متنازع گرے زونز سے لے کر تیز رفتار ہائبرڈ جنگ تک، آج کا سکیورٹی ماحول اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ خدمت انجام دینے والے افراد عمل کے ساتھ ساتھ گہری سوچ بھی رکھیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’آپریشن سندور نے یہ ثابت کیا اور ایک معیار قائم کیا کہ جب قومی ارادے کا اظہار درستگی اور عزم کے ساتھ کیا جائے تو بھارت اشتعال انگیزی کا جواب کس طرح دیتا ہے۔ اب اس معیار کو برقرار رکھنا آپ کی ذمہ داری ہے۔‘‘
اس موقع کو ’’جذباتی اور ذاتی طور پر بہت اہم لمحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے جنرل دویدی نے یاد کیا کہ وہ۴۲سال قبل اسی پریڈ گراؤنڈ سے فارغ التحصیل ہوئے تھے۔انہوں نے کہا، ’’آج جب میں ایک فوجی زندگی کے اختتامی مرحلے پر کھڑا ہوں اور اپنی وردی اتارنے کی تیاری کر رہا ہوں، جبکہ آپ اسے پہننے جا رہے ہیں، تو میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جس سفر کا آغاز آپ یہاں سے کرتے ہیں، وہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔‘‘(ایجنسیاں)










