نئی دہلی کا برہمی کا اظہار ‘کہا بھارت کے اٹوٹ انگ پر کسی دوسرے ملک کو تبصرہ کرنے کا اختیار نہیں
چونکہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی سرحد مشترک نہیں، اس لیے اس طرح کے نام نہاد تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا:جیسوال
ایجنسیز
نئی دہلی؍۲۶مئی
نئی دہلی نے منگل کو چین اور پاکستان کے مشترکہ بیان میں جموں و کشمیر سے متعلق حوالوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے ’’بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے‘‘۔
یہ بات وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہی۔
چین اور پاکستان کے مشترکہ بیان میں شامل ’’غیر ضروری حوالوں‘‘ سے متعلق میڈیا سوالات کے جواب میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، ’’بھارت چین اور پاکستان کے مشترکہ بیان میں جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے سے متعلق غیر ضروری حوالوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔‘‘
ترجمان نے کہا کہ اس معاملے پر بھارت کا موقف ’’واضح، مستقل اور متعلقہ فریقین کو بخوبی معلوم‘‘ ہے۔
بیان میں کہا گیا، ’’جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ تھے، ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ کسی دوسرے ملک کو اس پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔‘‘
چین،پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے وزارتِ خارجہ نے ایک بار پھر اُن منصوبوں کی مخالفت دہرائی جو بھارت کے دعوے والے علاقوں میں واقع ہیں۔
ترجمان نے کہا ’’جہاں تک نام نہاد چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں کا تعلق ہے، جن میں سے بعض بھارت کے خودمختار علاقے میں واقع ہیں، ہم پاکستان کے ان علاقوں پر غیر قانونی اور زبردستی قبضے کو مضبوط یا جائز قرار دینے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت اور مسترد کرتے ہیں، کیونکہ یہ بھارت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف ہے۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت اپنا موقف ’’متعدد بار پاکستانی اور چینی حکام تک واضح طور پر پہنچا چکا ہے۔‘‘
وزارتِ خارجہ نے چین اور پاکستان کے درمیان ’’سرحد پار آبی وسائل کے تعاون‘‘ سے متعلق حوالوں پر بھی اعتراض کیا۔
بیان میں کہا گیا، ’’ہم نے چین اور پاکستان کے درمیان نام نہاد ’سرحد پار آبی وسائل کے تعاون‘ سے متعلق حوالوں کا بھی نوٹس لیا ہے۔ چونکہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی سرحد مشترک نہیں، اس لیے اس طرح کے نام نہاد تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘
نئی دہلی نے مزید کہا کہ اس نے ’’پاکستان اور چین کے درمیان۱۹۶۳کے نام نہاد سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔‘‘
وزارتِ خارجہ کا یہ بیان اُس مشترکہ اعلامیے کے بعد سامنے آیا جس میں چین اور پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو ’’تاریخ کا نامکمل مسئلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فریم ورک کے تحت پُرامن طریقے سے حل کرنے کی بات کہی تھی۔










