کہا انتظامیہ یا عوامی زندگی سے وابستہ منشیات کاروبار سے جڑے افراد کیخلاف سخت کارروائی ہوگی
ویب ڈیسک
سرینگر؍۲۳ مئی
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کو خبردار کیا کہ انتظامیہ یا عوامی زندگی سے وابستہ کوئی بھی شخص اگر منشیات کی اسمگلنگ سے جڑا پایا گیا یا اس کی حمایت کرتا نظر آیا تو اُس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سنہا نے شوپیان میں ’نشہ مکت جموں کشمیر پدیاترا‘ میں شرکت کی، جہاں معاشرے کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ منشیات کے ذریعے دہشت پھیلانے والوں کو جموں و کشمیر کے ہر کونے سے نکال باہر کیا جائے گا۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ اجتماعی عزم ایک نئے دور کے آغاز کی نوید ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’آج میں بلا تردد یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ خواہ کوئی سرکاری افسر ہو یا عوامی زندگی سے وابستہ کوئی شخص، اگر وہ کسی بھی طرح منشیات کے نیٹ ورک سے جڑا ہوا پایا گیا یا اس کی حمایت کرتا نظر آیا تو اسے سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر اس ناسور کا معمولی سا اثر بھی ہمارے نظام میں سرایت کر چکا ہے تو اسے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بے رحمی سے ختم کر دیا جائے گا‘‘۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منشیات کے ناسور کے خاتمے کے لیے عوام کا اجتماعی عزم ایک نئے دور کی شروعات ثابت ہوگا۔
سنہا نے کہا’’یونین ٹیریٹری کی ہر گلی اور کوچے سے ایک آواز بلند ہو رہی ہے کہ کسی بھی منشیات اسمگلر کو بخشا نہ جائے۔۴۳روز قبل جموں سے شروع ہونے والی یہ مہم اب ایک مضبوط عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو ہر برادری میں تیزی سے پھیل رہی ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ایک ہی مقصد اور مشترکہ ہدف کے تحت جموں و کشمیر کے لاکھوں لوگ اس جنت نظیر سرزمین سے منشیات پر مبنی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔انہوں نے کہا’’اب یہ بات عوام کے ذہنوں میں اچھی طرح بیٹھ چکی ہے کہ یہ کوئی دور کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے دروازے پر کھڑا ایک چیلنج ہے، جس کا ہمیں ہمت اور عزم کے ساتھ سامنا کرنا ہوگا‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مشاہدہ ظاہر کیا کہ منشیات کا زہر نوجوانوں کو ترقی کی راہ سے بھٹکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ منشیات سے حاصل ہونے والی رقم سے ہتھیار خریدتے ہیں اور انہی ہتھیاروں سے عام کشمیریوں کا خون بہایا جاتا ہے۔انہوں نے کہا’’آج میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی افسر یا عوامی زندگی سے وابستہ کوئی بھی شخص کسی بھی طرح منشیات کے نیٹ ورک سے جڑا ہوا پایا گیا یا اس کی حمایت کرتا نظر آیا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر اس ناسور کی معمولی سی جھلک بھی ہمارے نظام میں موجود ہوئی تو اسے بلا رحم طریقے سے ختم کر دیا جائے گا‘‘۔
سنہا نے کہا کہ ہمارے بچوں کی زندگیاں تباہ کر کے ہزاروں اسمگلروں اور منشیات پر مبنی دہشت گردوں نے اپنی سیاہ سلطنتیں قائم کر رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سلطنتوں کی ایک ایک اینٹ گرائی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ منشیات فروشوں کے ہاتھوں عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور ان کی اجتماعی’اب مزید نہیں‘ کی آواز ایک ناقابلِ روک للکار بن چکی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’ہمارے شہروں اور دیہات میں فروخت ہونے والی ہر منشیات عوام کے سینے پر رکھی گئی ایک گولی کی مانند ہے‘‘۔
ایل جی نے کہا’’جہاں کہیں بھی منشیات فروش اور اسمگلر جڑ پکڑتے ہیں، ان کا پہلا نشانہ ہمارے نوجوان بنتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ جموں و کشمیر کے بہت سے والدین اس خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں کہ کہیں ان کا خاندان اگلا شکار نہ بن جائے۔ ہمیں اس خوف کو مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا اور یونین ٹیریٹری کے ہر گھرانے کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بھی بتایا کہ جموں و کشمیر میں۷ ہزار سے زائد خواتین کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور اب انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ ان کمیٹیوں کو بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔
سنہا نے کہا کہ گزشتہ۴۳ دنوں کے دوران۷۹۷؍ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں جبکہ۸۹۴منشیات فروشوں اور اسمگلروں کو جیل بھیجا گیا ہے۔۵۹؍اسمگلروں کو متعلقہ دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اسمگلروں کے کالے دھن سے تعمیر کی گئی۸۱عمارتیں مسمار کی جا چکی ہیں جبکہ۱۰۱غیر منقولہ جائیدادیں ضبط کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کروڑوں روپے مالیت کے دیگر اثاثے بھی ضبط کیے گئے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر کے مطابق۴۵۷ ڈرائیونگ لائسنس معطل کیے گئے ہیں جبکہ۲۲؍اسمگلروں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے اور۶۰۶ گاڑیوں کی رجسٹریشن ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ بڑی مقدار میں منشیات بھی ضبط کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً۵۶۴۱میڈیکل اسٹورز کی جانچ کی گئی، جن میں سے۲۶۸کے لائسنس معطل یا منسوخ کیے گئے جبکہ۶ میڈیکل اسٹورز کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔
سنہا نے کہا کہ ایک جامع بحالی پالیسی بھی تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا،’’ہمارا مقصد صرف نشے کے عادی نوجوانوں کو بحالی پروگراموں کے ذریعے آزاد کرانا نہیں بلکہ انہیں روزگار اور ملازمت
فراہم کر کے دوبارہ مرکزی دھارے میں شامل کرنا بھی ہے۔‘‘










