جموں؍۲۳مئی
جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں ہفتہ کو مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع کے بعد سیکورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم کے دوران دہشت گردوں اور فورسز کے درمیان انکاؤنٹر شروع ہو گیا، حکام نے بتایا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق علاقے میں دو سے تین دہشت گردوں کی موجودگی کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔
وائٹ نائٹ کور نے ایکس پر جاری بیان میں کہا’’آج تقریباً۱۱:۳۰بجے راجوری کے گمبھیر مغلاں علاقے میں پولیس اور سی آر پی ایف کے ساتھ انٹیلی جنس بنیادوں پر مشترکہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے رابطہ قائم ہوا‘‘۔
بیان میں کہا گیا کہ فورسز نے فوری اور منظم کارروائی کی جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔
وائٹ نائٹ کور کے مطابق، ’’فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے جبکہ علاقے کا مؤثر محاصرہ کر لیا گیا ہے۔ ’آپریشن شیرووالی‘کے نام سے جاری کارروائی تاحال جاری ہے‘‘۔
حکام کے مطابق دوریمل-گمبھیر مغلاں پٹی میں مشتبہ دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق اطلاعات موصول ہونے کے بعد محاصرہ اور تلاشی مہم شروع کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ پولیس، فوج اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی مشترکہ ٹیم نے علاقے کو گھیرے میں لے کر وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائیاں شروع کیں۔
حکام نے مزید بتایا کہ علاقے میں اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے اور آخری اطلاعات موصول ہونے تک آپریشن جاری تھا۔










