پاکستان اور بنگلہ دیش سے دراندازی روکنے کیلئے ایک سال میں سرحدوں کو نا قابل تسخیر بنایا جا ئےگا : وفاقی وزیر داخلہ
’ڈرون، راڈار، جدید کیمرے نصب ہو ں گے‘نکسلی انتہاپسندی کے بعد اب دراندازی کو پوری طرح ختم کیا جائے گا‘
نئی دہلی؍۲۲مئی
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ حکومت دراندازی پر روک لگانے کے لیے اگلے ایک برس میں ڈرون، راڈار، جدید کیمروں اور ٹیکنالوجیز سے لیس اسمارٹ بارڈر پروجیکٹ لا کر ایک ناقابل تسخیر بارڈر گرڈ بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا اندرونی سکیورٹی کا وژن مسائل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے اور نکسلی انتہاپسندی کے بعد اب دراندازی کو پوری طرح ختم کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے سرحدی سکیورٹی کو علاقائی ذمہ داری (ٹیریٹوریل رسپانسبلٹی) قرار دیتے ہوئے تریپورہ، آسام اور مغربی بنگال میں بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کو ضلع انتظامیہ، پولیس تھانوں، پنچایتوں اور پٹواریوں کے ساتھ مل کر دراندازی روکنے کی سمت میں کام کرنے کی ہدایت دی۔
شاہ جمعہ کو یہاں بارڈر سکیورٹی فورس کی تقریبِ اعزازات اور رستم جی میموریل لکچر میں بطور مہمانِ خصوصی شامل ہوئے۔
اس موقع پر ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیورو، سکریٹری بارڈر مینجمنٹ اور بارڈر سکیورٹی فورس کے ڈائریکٹر جنرل سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔
مرکزی وزیر داخلہ نے فورس کی خاتون ٹیم کے ماؤنٹ ایورسٹ کو کامیابی سے سرکرنے کے تاریخی کارنامے پر ٹیم کے تمام ارکان اور بارڈر سکیورٹی فورس کے تمام جوانوں کو دلی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ فورس نے دستیاب وسائل سے غیر قانونی دراندازی ، نارکوٹکس کی اسمگلنگ، مویشیوں کی اسمگلنگ، جعلی کرنسی، منظم جرائم، ڈرون سے ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ سمیت کئی طرح کے چیلنجوں کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں فورس کے کردار کو مزید مربوط اور وسیع کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اب صرف روایتی طریقے سے سرحدوں کی حفاظت نہیں کی جا سکتی، اس کے لیے ریاستی پولیس، مرکزی مسلح پولیس فورسز، دیگر مسلح افواج، نارکوٹکس کنٹرول بیورو، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور ریاستی انتظامیہ کے ساتھ مل کر سکیورٹی گرڈ کو مضبوط کرنا پڑے گا، تب ہی ہم ان نئے چیلنجوں کا سامنا کر سکیں گے۔
شاہ نے کہا’’ہمیں سرحدی سکیورٹی کو ایک الگ تھلگ ذمہ داری کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک علاقائی ذمہ داری کے طور پر دیکھنا ہوگا، تب ہی ہم ان تمام چیلنجوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوں گے‘‘۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں آنے والے خطرات کو بھی دیکھنا ہوگا۔ سرحد پار سے دراندازی کے ذریعے مصنوعی طریقے سے آبادی کے تناسب (ڈیموگرافی) میں کی جانے والی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے بھی ہمیں محتاط اور چوکس رہنا ہوگا۔ان کاکہنا تھا’’نارکوٹکس اور جعلی کرنسی کے حملے سے ہمارے اقتصادی نظام کو کھوکھلا کرنے کی کوششوں کے تئیں بھی ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا۔ سائبر چیلنجز، ہائبرڈ وارفیئر اور ڈرون کے خطرات کے لیے ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ ہمیں کام کرنا ہوگا‘‘۔
شاہ نے کہا کہ وزارت داخلہ، سرحد کو ایک اسمارٹ بارڈر بنانے میں بارڈر سکیورٹی فورس کو تکنیکی مدد فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا’’بی ایس ایف کی طرف سے کیے جا رہے کئی تجربات کے ساتھ ایک مضبوط سکیورٹی گرڈ بنانے کی سمت میں ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔ آنے والے ایک سال کے اندر ہی اسمارٹ بارڈر کنسیپٹ کے ساتھ سرحدی سکیورٹی میں تمام اقسام کی ٹیکنالوجی کو شامل کر کے ایک ناقابل تسخیر بارڈر کا سکیورٹی گرڈ بنانے کا کام آگے بڑھ رہا ہے۔ وزارت داخلہ بہت جلد ڈرون، راڈار، جدید کیمروں اور دیگر نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک اسمارٹ بارڈر پروجیکٹ ملک کے سامنے لے کر آئے گی‘‘۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ اس شروعات کے بعد بارڈر سکیورٹی فورس کا کام کافی آسان بھی ہو جائے گا اور اسے مضبوطی بھی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ فورس کے قیام کے۶۰ ویں سال میں ہی ہم اسمارٹ بارڈر پروجیکٹ کی شروعات کر کے بنگلہ دیش اور پاکستان کی پوری سرحد کو ناقابل تسخیر بنا دیں گے جس سے بی ایس ایف کو بہت بڑی تکنیکی مدد دستیاب ہو جائے گی۔ اس سے شجاعت، بہادری، لگن اور حب الوطنی کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط تکنیکی تعاون بھی فورس کے پاس دستیاب ہوگا جس سے ہم دونوں سرحدوں کو مزید محفوظ کر دیں گے۔
شاہ نے کہا کہ حکومت کے اٹل اور پختہ عزم کی وجہ سے پانچ دہائی پرانا نکسلی انتہا پسندی کا مسئلہ ختم ہو گیا ہے اور ہندوستان نکسل سے پاک ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلے کو برقرار رکھنا یا کنٹرول میں رکھنا سکیورٹی کا نقطہ نظر نہیں ہو سکتا، بلکہ مسئلے کو جڑ سے ختم کرنا ہی سکیورٹی کا نقطہ نظر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب دراندازی کے لیے بھی بی ایس ایف کو اسی عزم کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔










