ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

اگر والدین آئی اے ایس افسر ہیں تو بچوں کو ریزرویشن کیوں؟ سپریم کورٹ کا سوال

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-05-23
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
اگر والدین آئی اے ایس افسر ہیں تو بچوں کو ریزرویشن کیوں؟ سپریم کورٹ کا سوال
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

’معاشی بااختیاری کے ساتھ سماجی ترقی بھی ہوتی ہے‘پھر دوبارہ بچوں کیلئے ریزرویشن مانگنے سے ہم کبھی اس دائرے سے باہر نہیں نکل سکیں گے‘

(ویب ڈسیک)

سرینگر؍۲۲مئی

متعلقہ

’جنتر منتر پر احتجاج کا پروگرام برقرار‘

’عمر کو صرف اپنی اقتدار کی واپسی کی فکر ہے‘عوامی حقوق کی نہیں‘

             سپریم کورٹ نے آج سوال اٹھایا کہ جو خاندان ریزرویشن کے ذریعے تعلیمی اور معاشی ترقی حاصل کر چکے ہیں، کیا اُن کے بچوں کو بھی دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے ریزرویشن فوائد جاری رہنے چاہئیں، عدالت نے مشاہدہ کیا کہ تعلیمی اور معاشی ترقی کے ساتھ سماجی ترقی بھی آتی ہے۔

            جسٹس بی وی ناگرتھنا نے کہا، ’’اگر دونوں والدین آئی اے ایس افسر ہیں تو پھر انہیں ریزرویشن کیوں ملنا چاہیے؟ تعلیم اور معاشی بااختیاری کے ساتھ سماجی ترقی بھی ہوتی ہے۔ پھر دوبارہ بچوں کے لیے ریزرویشن مانگنے سے ہم کبھی اس دائرے سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔‘‘

            انہوں نے کہا، ’’یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ پھر اس کا فائدہ کیا ہے؟ آپ نے ریزرویشن دیا، والدین نے تعلیم حاصل کی، اچھی ملازمتیں حاصل کیں، اچھی آمدنی پا رہے ہیں، اور اب بچے دوبارہ ریزرویشن چاہتے ہیں۔ دیکھئے، انہیں ریزرویشن سے باہر آنا چاہیے۔‘‘

            جسٹس ناگرتھنا اور جسٹس اُججل بھویان پر مشتمل بنچ کرناٹک ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کے خلاف دائر عرضی کی سماعت کر رہی تھی جس میں درخواست گزار کو کریمی لیئر کی بنیاد پر ریزرویشن سے خارج کیے جانے کو برقرار رکھا گیا تھا، کیونکہ اُس کے والدین دونوں ریاستی سرکاری ملازم ہیں۔

            یہ معاملہ کُروبا برادری سے تعلق رکھنے والے ایک امیدوار سے متعلق ہے، جو کرناٹک کی پسماندہ طبقات کی فہرست میں شامل ہے۔ اُسے کرناٹک پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن لمیٹڈ میں اسسٹنٹ انجینئر (الیکٹریکل) کے طور پر ریزروڈ زمرے میں تقرری کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

            تاہم، ضلع ذات اور آمدنی تصدیقی کمیٹی نے اُسے ذات کی توثیقی سند جاری کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ کمیٹی کے مطابق وہ کریمی لیئر میں آتا تھا۔ امیدوار کے خاندان کی سالانہ آمدنی تقریباً۱۹ء۴۸لاکھ روپے بتائی گئی۔

            حکام نے نوٹ کیا کہ دونوں والدین سرکاری ملازم ہیں اور ان کی مشترکہ آمدنی مقررہ کریمی لیئر حد سے زیادہ ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس ناگرتھنا نے بار بار اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ خاندانوں کی سماجی اور معاشی ترقی کے باوجود ریزرویشن کے فوائد جاری رکھے جا رہے ہیں۔

            انہوں نے کہا کہ معاشی اور تعلیمی بااختیاری کے ساتھ سماجی حیثیت بھی بہتر ہوتی ہے، اور سوال اٹھایا کہ ایسے بچوں کو ریزرویشن کا فائدہ دینے کی کیا منطق ہے جن کے والدین تعلیم یافتہ، اچھی ملازمتوں پر فائز اور معقول آمدنی رکھتے ہیں۔

            سپریم کورٹ نے کہا، ’’کچھ توازن ہونا چاہیے۔ سماجی اور تعلیمی پسماندگی اپنی جگہ، لیکن ایک بار جب والدین ریزرویشن کا فائدہ اٹھا کر ایک مقام حاصل کر لیتے ہیں، اگر دونوں آئی اے ایس افسر ہوں، دونوں سرکاری ملازمت میں ہوں، بہت اچھی پوزیشن میں ہوں، تو سماجی ترقی ہو چکی ہے۔ اب وہ اخراج پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ اس پہلو کو بھی ذہن میں رکھنا ہوگا۔‘‘

            یہ مشاہدات اُس وقت سامنے آئے جب وکیل ششانک رتنّو نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے لیے کریمی لیئر کی شناخت میں تنخواہ فیصلہ کن معیار نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کریمی لیئر کا تعین والدین کے عہدے، جیسے گروپ اے یا گروپ بی سروسز، کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ صرف تنخواہ کی بنیاد پر۔

            انہوں نے کہا کہ اگر صرف تنخواہ کو معیار بنایا جائے تو ڈرائیور، چپراسی، کلرک اور دیگر نچلے درجے کے سرکاری ملازمین بھی ریزرویشن کے فوائد سے محروم ہو سکتے ہیں۔ اُن کے مطابق سرکاری ملازمین کے معاملے میں تنخواہ کریمی لیئر کے تعین کا فیصلہ کن عنصر نہیں ہے۔

            انہوں نے کہا کہ تنخواہ اور زرعی آمدنی کو شامل نہیں کیا جا سکتا، اور صرف کاروبار یا دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مدنظر رکھا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اس مسئلے پر مختلف عدالتی آراء موجود ہیں، اس لیے اس پر تفصیلی غور کی ضرورت ہے۔

            جسٹس ناگرتھنا نے نوٹ کیا کہ اس معاملے میں درخواست گزار کے والد کی بنیادی تنخواہ۵۳ہزار۹۰۰روپے ماہانہ جبکہ والدہ کی بنیادی تنخواہ۵۲ہزار۶۵۰روپے ماہانہ ہے۔

            رتنّو نے کہا کہ کریمی لیئر کے تعین میں یہ اعداد و شمار اہم نہیں ہیں، اور کرناٹک حکومت کی ایک وضاحت کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ اگر والدین ریاستی سرکاری ملازم ہوں تو اہلیت کے تعین میں تنخواہ اور الاؤنسز کو شامل نہ کیا جائے۔

            انہوں نے دلیل دی کہ اگر کریمی لیئر کے تعین میں ہر قسم کی آمدنی کو شامل کیا جائے تو او بی سی ریزرویشن اور اقتصادی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس) ریزرویشن کے درمیان کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔

            یہ عرضی کرناٹک ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ کے اُس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی ہے جس نے امیدوار کے حق میں سنگل جج کے فیصلے کو پلٹ دیا تھا۔ ڈویژن بینچ نے قرار دیا تھا کہ کریمی لیئر کے تعین میں تنخواہ کو خارج کرنے کا اصول صرف مرکزی حکومت کی ملازمتوں میں ریزرویشن پر لاگو ہوتا ہے، نہ کہ کرناٹک میں ریزرویشن پر۔

            کرناٹک کی کریمی لیئر پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ امیدوار کے خاندان کی آمدنی مقررہ حد سے زیادہ ہے، اس لیے وہ کریمی لیئر میں آتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

’عمر عبداللہ لاپتہ‘ پوسٹر سے سیاسی ہنگامہ، فاروق عبداللہ کا بی جے پی پر جوابی وار

Next Post

بردی کا عیدالاضحیٰ اور امرناتھ یاترا کے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’جنتر منتر پر احتجاج کا پروگرام برقرار‘
اہم ترین

’جنتر منتر پر احتجاج کا پروگرام برقرار‘

2026-07-16
’عمر کو صرف اپنی اقتدار کی واپسی کی فکر ہے‘عوامی حقوق کی نہیں‘
اہم ترین

’عمر کو صرف اپنی اقتدار کی واپسی کی فکر ہے‘عوامی حقوق کی نہیں‘

2026-07-16
 متنازعہ کتاب تنازع: جموں یونیورسٹی نے بلیک لسٹ مصنفین اور ناشرین پر پابندی عائد کر دی
اہم ترین

 متنازعہ کتاب تنازع: جموں یونیورسٹی نے بلیک لسٹ مصنفین اور ناشرین پر پابندی عائد کر دی

2026-07-16
 سنہا کابھگوتی نگر یاتری نواس میں یاتریوں کی سہولیات کا جائزہ
اہم ترین

 سنہا کابھگوتی نگر یاتری نواس میں یاتریوں کی سہولیات کا جائزہ

2026-07-16
ہمالیہ میں برف باری سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، نئی تحقیق کا انکشاف
اہم ترین

ہمالیہ میں برف باری سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، نئی تحقیق کا انکشاف

2026-07-16
فنڈنگ بحران :پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی یونیورسٹی بند‘۸ہزارطلبہ متاثر
اہم ترین

پی او کے نہ ’آزاد‘ ہے، نہ ’متنازع‘، بلکہ ’زیرِ قبضہ‘ علاقہ ہے:مقامی رہنما

2026-07-16
جموں و کشمیر میں بڑا ردوبدل‘۸۲پولیس افسران تبدیل
اہم ترین

  پربھات کا کارگو کمپلیکس سری نگر  کا دورہ، سکیورٹی تیاریوں کا جائزہ

2026-07-16
ایل اور سی پر سکوت:کیرن علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں شروع ہونے لگیں
اہم ترین

 سانبہ میں بین الاقوامی سرحد  کے قریب کھیت میں مشتبہ  سوراخ ملنے پر سرچ آپریشن

2026-07-16
Next Post
بردی کا عیدالاضحیٰ اور امرناتھ یاترا کے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ

بردی کا عیدالاضحیٰ اور امرناتھ یاترا کے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.