سرینگر؍۲۱مئی
معروف انتخابی تجزیہ کار پردیپ گپتا نے کہا ہے کہ۲۰۱۴ سے شروع ہونے والا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا موجودہ سیاسی غلبہ کم از کم ۲۰’ سال‘ تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
ایکسس مائی انڈیا کے سربراہ نے کہا کہ جب تک حکمراں جماعت کی کارکردگی میں نمایاں کمزوری پیدا نہیں ہوتی، اس کی سیاسی پوزیشن محفوظ رہے گی۔
کانگریس کی طویل سیاسی بالادستی سے موازنہ کرتے ہوئے گپتا نے کہا کہ بھارتی سیاست ایک بار پھر ایک جماعت کی غلبے والی سیاست کے دور سے گزر رہی ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا’’ سیاست میں ایک حد ہوتی ہے۔ پہلے کانگریس نے۱۹۷۷ تک مسلسل حکومت کی۔ اس کے بعد اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اُس زمانے میں ہم تقریباً۲۰ سالہ سیاسی نسل کی بات کرتے تھے۔ یہ۲۰ سالہ دور اب بھی برقرار رہے گا‘‘۔
گپتا نے اشارہ دیا کہ بی جے پی بھی اسی طرح طویل عرصے تک بھارتی سیاست کا مرکزی محور بنی رہ سکتی ہے۔
ان کے مطابق حکمراں اتحاد اور اپوزیشن دونوں کا مستقبل بڑی حد تک موجودہ حکومت کی کارکردگی پر منحصر ہے۔
ایکسس مائی انڈیا کے سربراہ نے کہا’’اتنا بڑا مینڈیٹ ملنے کے بعد بی جے پی سے توقعات بھی بڑھ گئی ہیں، اس لیے اب بی جے پی اور این ڈی اے کو غیر معمولی کارکردگی دکھانی ہوگی‘‘۔
گپتا نے مزید کہا’’جب تک ان کی کارکردگی کمزور یا خراب نہیں ہوتی، وہ جیتتے رہیں گے اور اپوزیشن ہارتی رہے گی‘‘۔
انتخابی تجزیہ کار‘جن کے ایگزٹ پول نے اداکار وجے کی قیادت والی ٹی وی کے(ٹی وی کے) کی تمل ناڈو میں جیت کی درست پیش گوئی کی تھی، اُس نے دلیل دی کہ حکمراں جماعت کی پوزیشن اُس وقت تک محفوظ رہے گی جب تک اس کی حکمرانی کی کارکردگی میں نمایاں کمزوری پیدا نہیں ہوتی۔
ایکسس مائی انڈیا کے سربراہ نے کہا کہ کانگریس اب بھی ماضی کی ’خراب حکمرانی‘ کے تاثر جیسے ’وراثتی مسائل‘ کا بوجھ اٹھا رہی ہے، جس کی وجہ سے اس کی سیاسی بحالی ایک طویل عمل بن گئی ہے۔
گپتا نے کہا’’اگر آپ۲۰۲۹کی بات کریں تو اس وقت تک کانگریس کو اقتدار سے باہر ہوئے تقریباً۱۵ سال ہو جائیں گے۔ میرا خیال ہے کہ پورے ملک کو قائل کرنے میں انہیں کم از کم مزید پانچ سال لگ سکتے ہیں‘‘۔تاہم گپتا نے یہ بھی کہا کہ سیاسی غلبہ عوامی توقعات میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
ایکسس مائی انڈیا کے سربراہ نے کہا’’جب آپ بہت بلندی پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر نیچے آنے کا رجحان بھی پیدا ہوتا ہے۔ بی جے پی بھی اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں اس سے عوامی توقعات بہت بڑھ گئی ہیں۔
(ویب ڈیسک )
‘‘










