تو صاحب اپنی نیشنل کانفرنس کے تنویر صادق کاکہنا ہے کہ ان کے کان پک گئے ہیں ‘یہ بات سنتے سنتے کان پک گئے ہیں کہ جموںکشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی ایک ’مناسب‘ وقت پر ہو گی اور اس ایک بات کو سنتے سنتے نیشنل کانفرنس کے کان پک گئے ہیں ۔ کمال ہے کہ نیشنل کانفرنس کے کان پک گئے ‘ یہ ہماری لئے بریکنگ نیوزہے اور اس لئے ہے کیونکہ ہمیں نہیں معلوم تھا یا ہمیں یہی بتایا گیا تھا کہ …….کہ نیشنل کانفرنس کے پاس کان نہیں ہیں ‘ تب تو بالکل بھی نہیں جب یہ اقتدار میں ہو تی ہے ۔تب اسے کسی کی نہیں سنائی دیتی ہے ‘بالکل بھی نہیں سنائی دیتی ہے …….تب یہ اپنی ہی دھن میں ہو تی ہے ‘ اپنی ہی فکر میں ‘ اسے کسی اور کی فکر نہیں ہو تی ہے ‘ عوام کی بالکل بھی نہیں اور ایسے میں جب تنویر صادق یہ کہیں کہ ان کے تو کان پک گئے ہیں تو …….تو ان کی یہ بات اللہ میاں کی قسم سچ میں بریکنگ نیوز لگتی ہے اور سو فیصد لگتی ہے ۔ خیر!اگر تنویر صادق یا نیشنل کانفرنس کے کان سچ میں پک گئے ہیں تو ……. تو اس سے بچنے کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ ہے کہ ……. کہ جیسے گاندھی جی کے تین بندوروں میںایک بندر اپنے کانوں پر ہاتھ رکھتا اور پھر اسے کچھ بھی سنائی نہیں دیتا تھا ……. کوئی بری یا ان چاہی بات نہیں، تو تنویر صادق بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں اور اپنے کان بندھ رکھ رسکتے ہیں اور ……. اور اس لئے رکھ سکتے ہیں کہ ……. جب تک یہ اقتدار میں رہیں گے ‘تب تک انہیں یہ سننا ہی پڑے گا کہ ریاستی درجے کی بحالی ایک’ مناسب‘ وقت پر ہو گی اور اللہ میاں کی قسم جب تک این سی اقتدار میں ہے وہ مناسب وقت نہیں آئے گا ……. بالکل بھی نہیں آئے گا ۔اب فیصلہ مرکز نے نہیں بلکہ این سی نے کرنا ہے کہ وہ اس’ مناسب ‘وقت کے آنے میں تاخیر کا باعث بننا چاہے گی یااقتدار کی ’قربانی ‘ دے کر ’مناسب‘وقت کو جلد لانے میں اپنا رول ادا کرے گی ۔رہی بات این سی کے ’بھاری‘ منڈیٹ کی تو ……. تو یقیناً وہ مناسب فیصلہ نہیں تھا …….این سی کو اتنا بھاری منڈیٹ دینے کا فیصلہ مناسب نہیں تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ برسوں میں اس نے ثابت کردیا کہ یہ واقعی اس کے لائق نہیں تھی ‘ بالکل بھی نہیں تھی۔ ہے نا؟



