ایجنسیز
سری نگر؍۱۹ مئی
اکنامک آفینسز ونگ کشمیر نے منگل کو بڈگام میں۹۳ لاکھ روپے کے مبینہ لینڈ فراڈ کیس کے سلسلے میں مختلف مقامات پر تلاشی کارروائیاں انجام دیں۔ حکام کے مطابق معاملہ فرضی معاہدوں کے ذریعے مہاجر اراضی اور کھڑے درخت فروخت کرنے سے متعلق ہے۔
ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ کرائم برانچ جموں و کشمیر کے اکنامک آفینسز ونگ کشمیر نے پولیس اسٹیشن ای او ڈبلیو کشمیر میں درج ایک ایف آئی آر کے سلسلے میں بڈگام کے سمسان علاقے میں گھروں کی تلاشی لی۔ مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ کیس مبینہ طور پر۹۳لاکھ روپے کے لینڈ فراڈ سے متعلق ہے جس میں جوال پورہ بڈگام کے غلام محی الدین ڈار اور بنگلور نارتھ، کرناٹک/جنی پور جموں کے سوم ناتھ کول کو ملزم بنایا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ شکایت کنندہ کو مبینہ طور پر فرضی معاہدوں کے ذریعے پلوامہ کے درسو علاقے میں پانچ کنال مہاجر اراضی اور بجبہاڑہ میں۳۰۰ کھڑے درخت خریدنے کیلئے آمادہ کیا گیا تھا۔
ترجمان نے کہا کہ سوم ناتھ کول نے مبینہ طور پر خود کو اصل مالکان کا اٹارنی ہولڈر ظاہر کیا جبکہ غلام محی الدین ڈار گواہ کے طور پر سامنے آیا۔ تاہم تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ نہ زمین اور نہ ہی درخت ملزمان کی ملکیت تھے۔
انہوں نے کہا کہ مزید تحقیقات جاری ہیں اور اسی سلسلے میں ایگزیکٹو مجسٹریٹوں کی موجودگی میں سمسان بڈگام میں گھروں کی تلاشی لی گئی تاکہ کیس سے متعلق اہم شواہد اور دیگر قابلِ اعتراض مواد جمع کیا جا سکے۔
ترجمان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ معاشی جرائم انجام دینے والے دھوکہ بازوں سے ہوشیار رہیں اور ایسے کسی بھی واقعے کی اطلاع براہِ راست ایس ایس پی ای او ڈبلیو سری نگر (کرائم برانچ جموں و کشمیر) عبدالوحید شاہ کو دیں۔










