ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۹مئی
نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) جموں و کشمیر نے مالی سال۲۰۲۶۔۲۷ کے لیے تولیدی و اطفال صحت(آر سی ایچ)، صحت نظام کو مضبوط بنانے، قومی صحت پروگرام اور اربن ہیلتھ مشن کے تحت فلیکسی پول سے۱۵۰ء۸۴کروڑ روپے کی گرانٹ اِن ایڈ منظور اور جاری کر دی ہے۔
این ایچ ایم جموں و کشمیر کے مشن ڈائریکر کی جانب سے جاری ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق یہ فنڈز(بی ای اے ایم ایس) کے ذریعے ایس این اے ۔ایس پی اے آر ایس ایچ پلیٹ فارم پر جاری کیے گئے ہیں تاکہ این ایچ ایم اور آؤٹ سورس ملازمین کی تنخواہوں‘ڈی این بی؍ امیدواروں کے وظیفوں اور جموں و کشمیر بھر میں آشا ورکروں کے مراعاتی فنڈز کی ادائیگی ممکن بنائی جا سکے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ صحت و خاندانی بہبود، حکومتِ ہند نے جموں و کشمیر کے اسٹیٹ پروگرام امپلیمنٹیشن پلان(پی آئی پی) کے تحت ان فنڈز کی منظوری دی، جس کے بعد مختلف عمل درآمدی ایجنسیوں اور ضلع صحت سوسائٹیوں کے حق میں رقم جاری کی گئی۔
اہم مستفید اداروں میں ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز کشمیر کو۶۵ء۴۹ کروڑ روپے سے زائد جبکہ ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز جموں کو تقریباً۴۶ء۲۹ کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں اور گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کیلئے بالترتیب۲۱ء۱۰کروڑ روپے اور۱ء۹۸کروڑ روپے سے زائد منظور کیے گئے ہیں۔
ضلع وار فنڈز میں اننت ناگ کیلئے۹ء۹۰کروڑ روپے سے زائد، بارہمولہ۱۰ء۹۱کروڑ روپے، بڈگام۱۱ء۴۷ کروڑ روپے، جموں۱۷ء۵۰ کروڑ روپے، کپواڑہ۱۲ء۷۵ کروڑ روپے، پلوامہ۷ء۶۰ کروڑ روپے، سری نگر۹ء۲۷ کروڑ روپے اور ادھم پور۶ء۶۰کروڑ روپے شامل ہیں۔
این ایچ ایم نے تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران کو ہدایت دی ہے کہ فنڈز صرف منظور شدہ مقاصد کیلئے اور جنرل فنانشل رولز۲۰۱۷سمیت حکومتِ ہند اور جموں و کشمیر محکمہ صحت و طبی تعلیم کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق استعمال کیے جائیں۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ریاستی صحت سوسائٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر فنڈز کو کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا اور تمام عمل درآمدی ایجنسیوں کو مالی ریکارڈ شفاف انداز میں برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکام نے صحت اداروں کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ این ایچ ایم کے تحت فراہم کردہ تمام بنیادی ڈھانچے اور آلات پر این ایچ ایم کا لوگو نمایاں طور پر آویزاں کیا جائے اور ماہانہ مالی نگرانی و عمل درآمد رپورٹیں باقاعدگی سے جمع کرائی جائیں۔










