ایجنسیز
نئی دہلی؍۱۸مئی
سپریم کورٹ نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت درج ایک نارکو ٹیرر مقدمے میں پانچ برس سے زائد عرصے سے جیل میں بند جموں و کشمیر کے ایک شخص کو ضمانت دیتے ہوئے کہا ہے کہ۲۰۱۹سے۲۰۲۳ کے درمیان ملک بھر میں یو اے پی اے مقدمات میں سزا کی شرح۱ء۵فیصد سے۴فیصد کے درمیان رہی، جبکہ جموں و کشمیر میں یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم رہی ہے۔
مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس اجل بھویان پر مشتمل بنچ نے مشاہدہ کیا کہ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایسے مقدمات میں ٹرائل کے اختتام پر بری ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
عدالت نے کہا، ’’لہٰذا ملک گیر اعداد و شمار کے مطابق سزا کی شرح۲ فیصد سے۶فیصد تک ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے مقدمات میں۹۴فیصد سے۹۸فیصد تک بریت کا امکان موجود ہے۔ جہاں تک جموں و کشمیر کا تعلق ہے، وہاں سالانہ سزا کی شرح ہمیشہ ایک فیصد سے کم رہی ہے، یعنی ٹرائل کے اختتام پر۹۹فیصد بریت کا امکان ہوتا ہے۔‘‘
عدالت نے یو اے پی اے مقدمات میں کم سزا کی شرح کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ محض الزامات کی بنیاد پر طویل عرصے تک کسی کو قید میں نہیں رکھا جا سکتا، اور کہا کہ ’’ضمانت اصول ہے جبکہ جیل استثنا‘‘، حتیٰ کہ انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت بھی۔
عدالت نے یونین آف انڈیا بنام کے اے نجیب مقدمے میں دی گئی آبزرویشن کو دہراتے ہوئے کہا کہ یو اے پی اے کی متعلقہ دفعہ کو ضمانت سے انکار کی واحد بنیاد نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ اس سے مقدمے کی سماعت سے پہلے طویل قید کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔
عدالت نے کہا، ’’ایک اور اہم وجہ بھی ہے کہ ہمیں کے اے نجیب فیصلے کی پیروی کرنی چاہیے۔ اسی لیے ہم نے گزشتہ پانچ برسوں کے کچھ اعداد و شمار کا حوالہ دیا ہے، جو وزیر مملکت برائے امور داخلہ نے پارلیمنٹ میں این سی آر بی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر پیش کیے تھے۔۲۰۱۹سے۲۰۲۳کے دوران ملک بھر میں سزا کی کم از کم شرح۱ء۵فیصد اور زیادہ سے زیادہ۴فیصد رہی، جبکہ جموں و کشمیر میں۲۰۱۹میں سزا کی شرح صفر تھی اور۲۰۲۲ میں سب سے زیادہ۰ء۸۹فیصد ریکارڈ کی گئی۔‘‘
عدالت نے اپیل کنندہ کو خصوصی این آئی اے عدالت کی جانب سے عائد کی جانے والی شرائط کے ساتھ ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ وہ اپنا پاسپورٹ جمع کرائے اور ہر پندرہ دن بعد ہندواڑہ پولیس اسٹیشن میں حاضری دے۔
سپریم کورٹ نے گلفیشہ فاطمہ بنام ریاست مقدمے کے فیصلے پر بھی ناپسندیدگی ظاہر کی، جس میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس فیصلے کے مختلف پہلوؤں پر ’’سنجیدہ تحفظات‘‘ ظاہر کیے، جن میں ایک سال تک ضمانت کی درخواست نہ دینے کی مؤثر پابندی بھی شامل ہے۔
یہ اپیل جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے۱۹؍ اگست۲۰۲۵کے اُس فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی، جس میں این آئی اے کے ایک نارکو ٹیرر مقدمے میں ملزم سید افتخار اندرابی کو ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ استغاثہ کے مواد سے بادی النظر میں ملزم کے نارکو ٹیرر سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اشارہ ملتا ہے، اور اس میں ہیروئن اور نقدی کی برآمدگی کے ساتھ ساتھ سرحد پار موجود افراد سے مبینہ روابط کے الزامات کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا تھا کہ مقدمے میں۳۲۰ سے زائد گواہوں کی فہرست پیش کی گئی ہے، جن میں سے صرف چند کے بیانات ہی اب تک قلمبند کیے گئے تھے۔










