نئی دہلی، 13 مئی (یو این آئی) دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بدھ کو کہا کہ حکومت راجدھانی کے لیے جدید لاجسٹکس اور ویئر ہاؤسنگ پالیسی کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے، جس سے تجارت اور صنعتوں کو نئی رفتار ملے گی۔
محترمہ گپتا نے آج کہا کہ پالیسی کا بنیادی مقصد دہلی میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا، آلودگی گھٹانا اور راجدھانی کو ایک جدید، موثر اور ماحول دوست لاجسٹکس ہب کے طور پر ترقی دینا ہے۔ اس پالیسی کے تحت شہر کے بیرونی علاقوں میں ‘اربن کنسولیڈیشن اینڈ لاجسٹکس ڈسٹری بیوشن سینٹرز’ (یوسی ایل ڈی سی ) تیار کیے جائیں گے۔ ان مراکز پر بڑے پیمانے پر آنے والے مال کو اکٹھا کر کے ضرورت کے مطابق شہر کے اندر بھیجا جائے گا۔ اس کے علاوہ، مارکیٹ کی سطح کے گودام اور مائیکرو فل فلمنٹ سینٹرز بھی بنائے جائیں گے، جس سے آخری مرحلے (لاسٹ مائل) تک سامان کی ترسیل تیز اور منظم ہو سکے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ‘ان لینڈ کنٹینر ڈپو’ (آئی سی ڈی ) کو جدید بنایا جائے گا اور لاجسٹکس کوریڈورز، ٹرک ٹرمینلز اور پارکنگ ہب تیار کیے جائیں گے۔ منڈیوں کے قریب کولڈ اسٹوریج بنانے سے ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھے گی اور شہر کے اندر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی میں ماحولیاتی تحفظ کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ایک صاف ستھرا ترسیلی نظام تیار کیا جائے گا۔ شمسی توانائی پر مبنی ویئر ہاؤسنگ اور توانائی کے حوالے سے موثر ڈھانچے کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نئی پالیسی سے ای کامرس، ٹیکسٹائل، تعمیراتی مواد، پھل، سبزیاں اور الیکٹرانکس کی صنعتوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ بہتر اسٹوریج اور ڈسٹری بیوشن سسٹم سے صنعتوں کی مسابقت بڑھے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ویئر ہاؤسنگ کی تقریباً 61 فیصد مانگ ای کامرس کے شعبے سے آتی ہے، جس کے پیشِ نظر جدید لاجسٹکس انفراسٹرکچر میں بڑی سرمایہ کاری کا امکان ہے۔ محترمہ گپتا نے کہا کہ ‘ماسٹر پلان دہلی 2041’ کے تحت ہول سیل مارکیٹوں کو مرحلہ وار شہر سے باہر منتقل کیا جائے گا اور لاجسٹکس ہب کے لیے زمین کی جلد نشاندہی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ پالیسی دہلی کی لاجسٹکس کارکردگی بڑھانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور راجدھانی کو قومی سطح پر ایک جدید اور ماحول دوست لاجسٹکس مرکز کے طور پر قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔










