واشنگٹن، 13 مئی (یواین آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کا مکمل بحری بیڑا تباہ کر دیا گیا ہے اور تہران اب اپنی بحری اور فضائی قوت سے محروم ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا، ’’ایران کے بحری بیڑے میں 159 جہاز تھے، لیکن اب ان میں سے ہر ایک سمندر کی تہہ میں پڑا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایرانی عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور تہران اپنی فضائیہ سے بھی محروم ہو چکا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی خفیہ اداروں کی حالیہ انٹیلی جنس رپورٹس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایران نے اپنی میزائل صلاحیتوں کا بڑا حصہ دوبارہ بحال کر لیا ہے، جس میں لانچنگ سائٹس اور زیرِ زمین عسکری تنصیبات تک رسائی بھی شامل ہے۔ یہ تفصیلات نیویارک ٹائمز نے شائع کی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے حالیہ جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود اپنی تزویراتی عسکری صلاحیتوں کے ایک بڑے حصے کو محفوظ رکھا ہے۔
ادھر امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ پینٹاگان جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں ایران سے متعلق ممکنہ فوجی کارروائیوں کے لیے ’’ہیوی ہیمر‘‘ نامی آپریشن دوبارہ فعال کرنے پر غور کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ جاری مذاکرات کی ناکامی اور حالیہ امریکی تجاویز کو ایران کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد دوبارہ عسکری دباؤ بڑھانے کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ صورتحال اُس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی شرائط تسلیم کرے، بصورت دیگر ’’ناکامی‘‘ کا سامنا کرے گا۔
قالیباف کا بیان ٹرمپ کے اُس تبصرے کے ایک روز بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ موجودہ جنگ بندی اب ’’آئی سی یو‘‘ میں پہنچ چکی ہے، یعنی اس کے خاتمے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے ممکنہ تصادم کی تیاری کے لیے دارالحکومت تہران میں فوجی مشقیں بھی کی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی صدر نے خبردار کیا ہے کہ 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی اب اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے۔
ادھر پینٹاگان کے مطابق ایران کے خلاف جنگ پر اب تک تقریباً 29 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جبکہ امریکی کانگریس میں اس تنازع اور اس کے مالی و عسکری اثرات پر ٹرمپ انتظامیہ کو بڑھتی ہوئی تنقید اور چھان بین کا سامنا ہے۔










