کوالالمپور/نئی دہلی، 15 ستمبر (یو این آئی) ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے ملک کا موقف پوری طرح واضح کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ملائیشیا کی سرزمین یا بندرگاہوں کو ایسے کسی بھی جہاز کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا جو اسرائیل کی جنگی طاقت میں اضافہ کرتا ہو یا فلسطینیوں اور دیگر بے قصور لوگوں کے خلاف اس کے مظالم میں معاونت کرتا ہو۔
مسٹر ابراہیم نے منگل کو سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں یہ بات کہی۔
ملائیشیا کے وزیراعظم کا یہ بیان اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جب ملائیشیا کی سرحدی کنٹرول اور سلامتی ایجنسی نے جوہر کے تنجونگ پیلے پاس بندرگاہ پر اسرائیل جانے والے ایسے مشتبہ کنٹینروں کو ضبط کر لیا تھا جن میں فوجی سازوسامان موجود ہونے کا شبہ تھا۔ یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہو گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ سخت بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود بعض لاجسٹک شپنگ کمپنیاں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے لیے سامان بھیجنے کے خفیہ راستے کے طور پر ملائیشیا کی بندرگاہوں کا استعمال کر رہی تھیں۔
اسی پیش رفت کا نوٹس لیتے ہوئے مسٹر ابراہیم نے عوامی طور پر اپنی حکومت کا سخت موقف ظاہر کیا ہے۔
مسٹر ابراہیم نے اپنے سرکاری بیان میں کہا کہ اس معاملے پر ملائیشیا کی پوزیشن بالکل واضح اور غیر مبہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مشتبہ کھیپ کی ملائیشیا کے قوانین کے تحت سخت جانچ اور تفتیش کی جائے گی۔ اگر تحقیقات میں قوانین کی خلاف ورزی پائی گئی تو متعلقہ اداروں کے خلاف فوری اور فیصلہ کن قانونی کارروائی کی جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ ملائیشیا کی حکومت نے دسمبر 2023 سے اسرائیلی پرچم والے جہازوں اور اسرائیل جانے والے کسی بھی مال بردار جہاز کے لیے ملائیشیا کی بندرگاہوں کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ مسٹر انور نے واضح کیا کہ ملائیشیا فلسطینی عوام کے حقوق اور انسانی انصاف کے تحفظ کے لیے اپنے عزم پر مضبوطی سے قائم رہے گا اور ملک کی خودمختار سرزمین کو جنگ کو ہوا دینے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔








