راجوری ضلع میں سب سے زیادہ قابضین‘جموں ضلع میں لاکھ ۴۵ہزار۴۸۷ تو سرینگر ضلع میں ۱۳ہزار۸۶۳کنال پر قبضہ
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۲مئی
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر بھر میں لینڈ مافیا نے۱۷لاکھ سے زائد کنال سرکاری زمین پر قبضہ کر رکھا ہے، جن میں سے۱۴لاکھ سے زیادہ کنال صرف جموں ڈویژن میں جبکہ۳ لاکھ سے زائد کنال کشمیر ڈویژن میں پائے گئے۔
ضلع راجوری پورے جموں و کشمیر میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع کے طور پر سامنے آیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر بھر میں تقریباً۱۷لاکھ۲۷ہزار۲۴۷ کنال سرکاری اراضی پر ناجائز قبضے کی اندراجات کو ریونیو ریکارڈ سے حذف کیا گیا۔ان میں جموں ڈویژن میں ۱۴لاکھ ۵۱ کنال اور پانچ مرلہ سرکاری زمین پر قبضے کی اندراجات حذف کی گئیں، جبکہ کشمیر ڈویژن میں یہ تعداد۳لاکھ۲۷ہزار۱۹۹کنال رہی۔
اعداد و شمار سے واضح علاقائی فرق سامنے آیا ہے۔ جموں ڈویژن کے سات اضلاع میں ایک ایک لاکھ کنال سے زیادہ سرکاری اراضی پر قبضہ پایا گیا، جبکہ دو اضلاع‘راجوری اور ریاسی‘میں یہ تعداد دو لاکھ کنال سے بھی تجاوز کر گئی۔
اس کے برعکس کشمیر ڈویژن کے کسی بھی ضلع میں ایک لاکھ کنال سے زیادہ قبضہ شدہ اراضی ریکارڈ نہیں کی گئی۔ وادی میں صرف بارہمولہ اور کپوارہ اضلاع میں۵۰ہزار کنال سے زیادہ اراضی پر قبضہ پایا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق جموں اور سرینگر، جو دونوں دارالحکومت اضلاع ہیں، کے درمیان بھی بڑا فرق پایا گیا۔
جموں ضلع میں ایک لاکھ ۴۵ہزار۴۸۷ کنال اور چھ مرلہ سرکاری زمین پر قبضہ پایا گیا، جبکہ سرینگر میںمیں یہ تعداد صرف۱۳ہزار۸۶۳کنال رہی۔ اس طرح صرف ضلع جموں میں سرینگر کے مقابلے میں دس گنا زیادہ قبضہ شدہ سرکاری اراضی پائی گئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع راجوری سب سے زیادہ متاثرہ ضلع بن کر ابھرا، جہاں۲لاکھ۷۳ہزار۸۴۸ کنال اور۱۲مرلہ سرکاری اراضی ناجائز قبضے میں پائی گئی۔اس کے بعد ضلع ریاسی میں ۲لاکھ۲۶ہزار۸۵۷ کنال اور چھ مرلہ، جبکہ رام بن میںایک لاکھ۷۳ہزار۸۳۲کنال اراضی پر قبضہ پایا گیا۔
ضلع جموں میں ایک لاکھ ۴۵ہزار۴۸۷ کنال اور چھ مرلہ جبکہ کٹھوعہ میںایک لاکھ۳۰ہزار۴۰۳ میں ایک لاکھ ۳۰یزار۴۰۳ کنال اور ڈیڑھ مرلہ سرکاری زمین قبضے میں پائی گئی۔
اسی طرح ادھمپور اور پونچھ اضلاع میں بھی ایک لاکھ کنال سے زائد اراضی پر قبضہ پایا گیا، جہاں بالترتیب ایک لاکھ ۱۹ ہزار۸۲۲کنال اور آٹھ مرلہ، اور ایک لاکھ ۱۱ہزار۱۳۳ کنال اور ۱۶مرلہ اراضی ناجائز قبضے میں تھی۔
ڈوڈہ میں ۹۱ہزار ۹۵۷ کنال اور پانچ مرلہ،سانبہ میں۷۴ہزار۱۹۶کنال اور تین مرلہ جبکہ کشتواڑ میں ۵۲ہزار۵۱۳کنال اور ساڑھے سات مرلہ اراضی قبضے میں پائی گئی۔
کشمیر ڈویژن میں بارہمولہ میں سب سے زیادہ۸۱ ہزار۳۲۸کنال سرکاری زمین پر قبضہ پایا گیا، اس کے بعد کپواڑہ میں۵۲ہزار۶۹۸کنال اراضی ناجائز قبضے میں تھی۔پلوامہ میں۴۲ہزار۷۳۱کنال‘اننت ناگ میں۳۶ہزار۹۸۴ کنال ‘ بڈگام میں ۲۱ہزار۷۷۵کنال اور بانڈی پورہ میں۲۰ہزار۹۲۶کنال اراضی پر قبضہ پایا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق شوپیاں میں ۱۹ہزار۳۵ کنال‘گاندربل میں ۱۹ ہزار۵کنال ‘کولگام میں ۱۸ ہزار۸۵۴ کنال اور سرینگر میں ۱۳ہزار۸۶۳کنال قبضہ شدہ اراضی کی اندراجات حذف کی گئیں۔
یہ اعداد و شمار ایک سوال کے جواب میں سامنے آئے جس میں ریاستی، مرکزی حکومت اور جے ڈی اے کی اراضی پر ناجائز قبضوں اور ان زمینوں کو واگزار کرانے یا ریگولرائز کرنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔
حکام نے راجوری، ریاسی، رام بن، جموں، کٹھوعہ، ادھم پور، پونچھ، ڈوڈہ، بارہمولہ، سانبہ، کپواڑہ، کشتواڑ، پلوامہ، اننت ناگ، بڈگام، بانڈی پورہ، شوپیاں، گاندربل، کولگام اور سرینگر اضلاع میں سرکاری اراضی پر قبضہ کرنے والوں کی غیر قانونی اندراجات کو ریونیو ریکارڈ سے حذف کر دیا ہے۔ (ایجنسیاں)










