ایجنسیز
سرینگر؍۱۲مئی
جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے منگل کو کہا کہ اگر مرکزی حکومت شراب سے حاصل ہونے والی آمدنی کے نقصان کی تلافی کرے تو جموں و کشمیر حکومت دو منٹ میں شراب پر پابندی لگا سکتی ہے۔
شراب کی دکانوں سے متعلق جاری تنازع پر بات کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر شراب نہیں پیتے، لیکن جو لوگ شراب پیتے ہیں وہ اگر یہاں دستیاب نہ ہو تو اسے باہر سے لے آئیں گے۔
داکٹر فاروق نے کہا’’میں شراب نہیں پیتا۔ جو لوگ شراب پیتے ہیں، وہ پئیں گے۔ اگر انہیں یہاں نہیں ملے گی تو وہ باہر سے لے آئیں گے‘‘۔
این سی صدر نے مزید کہا’’اور جو لوگ اس معاملے پر آواز اٹھا رہے ہیں، اُن سے پوچھیں کہ شراب پینے والے لوگ کون ہیں‘‘۔۱۹۷۷کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ سابق وزیر اعظم مورارجی ڈیسائی نے ان کے والد اور سابق وزیر اعلیٰ شیخ عبداللہ سے ریاست میں شراب کی فروخت بند کرنے کو کہا تھا۔انہوں نے کہا’’میرے والد نے اُن سے کہا تھا کہ اگر مرکز ہمیں اس سے حاصل ہونے والی آمدنی دے دے تو ہم اسے بند کر دیں گے۔ لیکن کچھ نہیں ہوا‘‘۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر آج بھی مرکز ریونیو کے نقصان کی بھرپائی کرے تو حکومت ’دو منٹ میں‘ شراب پر پابندی لگا سکتی ہے۔
این سی صدر نے کہا کہ اپوزیشن اس مسئلے کو سیاسی رنگ دے رہی ہے اور سوال اٹھایا کہ جب پہلے شراب کی دکانیں کھولی جا رہی تھیں تو اُس وقت کسی نے مخالفت کیوں نہیں کی۔انہوں نے کہا’’ہم نے شراب کی دکانیں نہیں کھولیں۔ جنہوں نے کھولیں، اُس وقت کسی نے آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ ہر گاؤں میں دکانیں کھل رہی تھیں‘‘۔
بظاہر اپوزیشن پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے عبداللہ نے الزام لگایا کہ وہ صرف حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کیلئے اس مسئلے کو اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’وہ ہر بات پر ہماری مخالفت کیلئے تیار رہتے ہیں… وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اُن سے ڈرتے ہیں، لیکن ہم انہیں ایسا جواب دیں گے جو وہ یاد رکھیں گے‘‘۔
حال ہی میں جموں و کشمیر میں شراب کے مسئلے پر اُس وقت سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا تھا جب وزیر اعلیٰ‘
عمرعبداللہ کے شراب نوشی سے متعلق بیان پر پی ڈی پی رہنما التجا مفتی نے انہیں مسلم اکثریتی خطے کے جذبات نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
اتوار کو عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ کسی کو زبردستی شراب پینے پر مجبور نہیں کیا جا رہا اور لوگ اپنی مرضی سے شراب کی دکانوں پر جاتے ہیں۔ اس بیان پر اپوزیشن جماعتوں اور عوام کے بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی۔
اگلے روز وزیر اعلیٰ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو سیاسی مخالفین ’توڑ مروڑ‘ کر پیش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے شراب نوشی کے خلاف ہیں اور جموں و کشمیر میں دستیاب شراب صرف اُن مذاہب کے ماننے والوں کیلئے ہے جہاں اس کی اجازت ہے۔
دریں اثنا فاروق عبداللہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث بڑھتے ہوئے ایندھن اور گیس بحران پر بھی تشویش ظاہر کی۔
وزیر اعظم نریندرا مودی کی جانب سے کفایت شعاری کی اپیل پر عبداللہ نے کہا کہ ملک ایک مشکل صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا،’’ہم ایندھن اور گیس بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں‘‘۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ غریب طبقے کیلئے آن لائن تعلیم کوئی مؤثر متبادل نہیں ہے۔انہوں نے کہا’’یہ افسوسناک بات ہے کہ غریب لوگوں کو آن لائن تعلیم تک رسائی حاصل نہیں۔ تعلیم ضروری ہے، لیکن آن لائن تعلیم ہر کسی کیلئے ممکن نہیں‘‘۔انہوں نے زور دیا کہ خاص طور پر غریب طلبہ کیلئے متبادل انتظامات تلاش کیے جائیں تاکہ تعلیم متاثر نہ ہو۔
ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع مزید بڑھنے کی صورت میں سنگین معاشی نتائج سے خبردار کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا، ’’اگر یہ بحران ختم نہ ہوا، اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ختم نہ ہوئی، تو پھر خدا ہی جانتا ہے کہ ہمارا کیا ہوگا۔‘‘










