’توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے تناظر میں حکومت درآمدات میں کمی کے ہر ممکن راستے تلاش کر رہی ہے‘ خوردنی تیل ان میں ایک اہم شعبہ ہے‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۱مئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتی عوام سے کھانے کے تیل، خاص طور پر ویجیٹیبل آئل کے استعمال میں کمی لانے کی اپیل کی ہے، جس نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا۔
مودی نے عوام سے ایندھن کم استعمال کرنے اور سونا خریدنے سے گریز کرنے کو بھی کہا، جس کی وجہ نسبتاً آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کیونکہ یہ دونوں اشیاء بڑی مقدار میں درآمد کی جاتی ہیں اور زرمبادلہ کے ذخائر پر اثر ڈالتی ہیں۔ لیکن کھانے کا تیل ایک ایسی روزمرہ ضرورت ہے جو تقریباً ہر گھر میں استعمال ہوتی ہے، اس لیے اس کا ذکر لوگوں کے لیے غیر متوقع تھا۔
تاہم ماہرین کے مطابق وزیر اعظم کا یہ پیغام سوچ سمجھ کر دیا گیا ہے۔ بھارت نے۲۰۲۵۔۲۶کے دوران تقریباً۱۹ء۵؍ارب ڈالر مالیت کے ویجیٹیبل آئل درآمد کیے، جو زرمبادلہ کا ایک بڑا اخراج ہے۔ اگر اس درآمد میں کمی آتی ہے تو اس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوگا اور روپے پر دباؤ بھی کم پڑے گا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ وزیر اعظم نے تیل کے استعمال میں کمی کی بات کی ہو۔ وہ متعدد تقاریر اور ’’من کی بات‘‘ پروگرام میں بھی کم تیل استعمال کرنے کی تلقین کرتے رہے ہیں، جہاں وہ اسے بہتر صحت سے جوڑتے رہے ہیں۔ تاہم اس بار ان کے پیغام میں معاشی اور طبی دونوں پہلو نمایاں ہیں۔
ایران جنگ کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے تناظر میں حکومت درآمدات میں کمی کے ہر ممکن راستے تلاش کر رہی ہے، اور خوردنی تیل ان میں ایک اہم شعبہ ہے۔
زوٹا ہیلتھ کیئر لمیٹڈ (دوا انڈیا) کے ماہر صحت ڈاکٹر سجیت پال کے مطابق وزیر اعظم کی اپیل دراصل ایک بڑے عوامی صحت کے مسئلے کی طرف اشارہ ہے۔
ڈاکٹر پال نے کہا ’’تلی ہوئی اشیاء، چپس اور پروسیسڈ فوڈ کا زیادہ استعمال خاموشی سے ایک طرزِ زندگی کا مسئلہ بن چکا ہے۔ جسم کو بہت کم مقدار میں تیل کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ اس کا زیادہ استعمال موٹاپا، دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور جسمانی سوزش کا سبب بنتا ہے‘‘۔
ڈاکٹر نے کہا کہ حل یہ نہیں کہ لوگ اچانک تیل کا استعمال مکمل بند کر دیں بلکہ کھانا پکانے کے طریقے بدلنے کی ضرورت ہے۔ان کے مطابق بھاپ میں پکانا، گرل کرنا، روسٹ کرنا، پریشر ککنگ، کم تیل میں ہلکی فرائنگ اور ایئر فرائنگ جیسے طریقے اضافی چکنائی کم کرتے ہیں جبکہ ذائقہ اور غذائیت برقرار رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روایتی بھارتی کھانوں میں پہلے ہی ایسے طریقے موجود تھے جن میں کم تیل استعمال ہوتا تھا، جیسے ابالنا، پریشر ککنگ، دہی یا ٹماٹر پر مبنی گریوی وغیرہ۔
ڈاکٹر پال کے مطابق ذائقے اور ساخت کے لیے صرف تیل پر انحصار ضروری نہیں۔ گریاں، بیج، ایواکاڈو اور چکنائی والی مچھلیاں صحت مند چکنائی فراہم کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہربز، مصالحے، لیموں، دہی، لہسن اور ٹماٹر پر مبنی ڈریسنگز بھی کھانے کا ذائقہ بڑھا سکتی ہیں، بغیر اس کے کہ زیادہ تیل استعمال کیا جائے۔
ماہر کا کہنا تھا ’’یہ سخت ڈائٹنگ نہیں بلکہ احتیاطی صحت کی سوچ ہے۔ چھوٹی مگر مستقل تبدیلیاں طویل مدت میں بہتر صحت فراہم کرتی ہیں‘‘۔
پبلک ہیلتھ اینالسٹ ڈاکٹر سمیر بھاٹی نے بھی اسی خیال کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا پیغام دراصل ایک معاشی اپیل کے اندر پوشیدہ صحت کا پیغام ہے۔
ڈاکٹر بھاٹی نے کہا کہ بھارت میں موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، فیٹی لیور اور ذیابیطس جیسے طرزِ زندگی سے جڑے امراض میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ تلی ہوئی اور زیادہ چکنائی والی غذائیں ہیں۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مکمل طور پر تیل ترک کرنا مناسب نہیں۔ ماہرین بہتر طریقۂ پکوان اپنانے کی تجویز دیتے ہیں، جیسے بھاپ میں پکانا، گرل کرنا، خمیر شدہ غذائیں، روسٹنگ اور ایئر فرائنگ وغیرہ۔
ڈاکٹر بھاٹی کے مطابق اب باورچی خانوں میں ایک خاموش تبدیلی دیکھی جا رہی ہے جہاں لوگ دہی، ناریل کے دودھ، گریوں کے پیسٹ، تل، السی اور ایواکاڈو جیسے اجزاء استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اجزاء بغیر زیادہ تیل کے کھانے کو گاڑھا پن اور ذائقہ دیتے ہیں، جبکہ خوشبو اور ذائقہ ہربز، مصالحوں، لیموں، لہسن اور ٹماٹر سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اس پورے تصور کو تین الفاظ میں سمیٹا’’اعتدال، بیداری اور طویل مدتی صحت‘‘۔
ڈاکٹر بھاٹی نے کہا’’وزیر اعظم کے پیغام کی اصل طاقت یہ ہے کہ اس کا حل نہ پالیسی ساز اداروں میں ہے اور نہ صنعتوں میں، بلکہ گھروں کے باورچی خانوں میں ہے۔ اگر لاکھوں گھرانے تھوڑا سا بھی خوردنی تیل کم استعمال کریں تو درآمدات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، زرمبادلہ کی بچت ہوگی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوگا، روپے پر دباؤ گھٹے گا اور ساتھ ہی عوام کی صحت بھی بہتر ہوگی۔‘‘










