معاشرے کے تمام طبقات کو منشیات کی لت کے خطرات کے بارے میں ایک آواز میں بولنا چاہیے:ایل جی سنہا
یقین دلاتا ہوں کہ ایک بھی اسمگلر کو بخشا نہیں جائے گا ‘ منشیات اسمگلنگ میں ملوث پورا نیٹ ورک جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا‘
ندائے مشرق خبر
سرینگر؍۹مئی
لیفٹیننٹ گورنر‘منوج سنہا نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ منشیات کے خلاف جنگ کو جیتنے کے لیے خاموشی توڑیں اور معاشرے کے تمام طبقات کو منشیات کی لت کے خطرات کے بارے میں ایک آواز میں بولنا چاہیے۔
لیفٹیننٹ گورنر آج ’منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم‘ کے تحت اننت ناگ میں پدیاترا میں شرکت کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔
سنہا نے کہا’’منشیات کی لت کے چیلنج کا خاتمہ صرف پورے معاشرے کی مشترکہ کوششوں سے ممکن ہے۔ اب سے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے ہر کونے، خواہ وہ اسکول ہوں، کالج، خاندان، کھیل کے میدان، وارڈ، گاؤں یا تھیٹر اسٹیج، سب کو پختہ عزم کے ساتھ اس مقصد کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منشیات کے خلاف اس جنگ میں انتظامیہ اور معاشرے کو منشیات اور دہشت گردی کے تعلق کو سمجھنا ہوگا اور سب کو مل کر اسے شکست دینی ہوگی۔
سنہا کاکہنا تھا’’ہمارا پڑوسی ملک منصوبہ بندی کے تحت جموں و کشمیر میں منشیات اسمگل کر رہا ہے۔ منشیات سے حاصل ہونے والی رقم اسمگلروں نے نارکو محل تعمیر کرنے میں استعمال کی ہے اور اس رقم کا بڑا حصہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ ایک طرف منشیات جموں و کشمیر کے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر رہی ہیں، تو دوسری طرف دہشت گرد تنظیمیں اسی رقم سے ہتھیار خرید رہی ہیں جو یو ٹی میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں کا خون بہا رہے ہیں‘‘۔
ایل جی نے مزید کہا’’یہ نارکو دہشت گردی کا نیٹ ورک دہائیوں سے جموں و کشمیر کی نسلوں کو مصیبت میں مبتلا کر رہا ہے۔ اسی لیے میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ منشیات کی لت اور دہشت گردی الگ الگ چیلنج نہیں بلکہ ایک ہی مسئلے کے دو رخ ہیں۔ اور میں آپ سب سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک ہم اسے شکست نہیں دے دیتے، ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے پولیس اور سول انتظامیہ سے کہا کہ مہم کے اگلے۷۱ دنوں میں اننت ناگ کے ہر پنچایت اور خاص طور پر حساس علاقوں تک پہنچا جائے۔
سنہا نے کہا’’ضلع اننت ناگ میں منشیات اسمگلروں کے نیٹ ورک کو فیصلہ کن ضرب دی جا رہی ہے۔۱۱؍ اپریل سے اب تک اننت ناگ میں این ڈی پی ایس کے تحت سب سے زیادہ۱۰۸مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ منشیات کے کالے دھن سے تعمیر کیے گئے۳ء۵کروڑ روپے مالیت کے نارکو محل مٹی میں ملا دیے گئے ہیں۔۲۲گاڑیاں ضبط کی گئی ہیں، ۸ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئی ہیں۔ قانون کی خلاف ورزی پر۱۳میڈیکل اسٹور سیل کیے گئے ہیں‘‘۔
سنہا نے مزید کہا ’’میں اننت ناگ کے عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ایک بھی اسمگلر کو بخشا نہیں جائے گا اور منشیات اسمگلنگ میں ملوث پورا نیٹ ورک جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ خواتین اور نوجوان منشیات کے خلاف اس جنگ کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر خاندان یا پڑوس کا کوئی نوجوان غلط راستے پر جا رہا ہو تو خواتین اور یوتھ کلب کے اراکین انہیں اصلاح کی راہ پر واپس لائیں اور ضرورت پڑنے پر انتظامیہ کی مدد حاصل کریں۔
ایل جی کاکہنا تھا’’میں کھلاڑیوں، اساتذہ اور تمام مذہبی رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اگلے۷۱دن پوری وابستگی کے ساتھ بیداری اور بحالی کی مہم کے لیے وقف کریں اور جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کا عہد کریں‘‘۔
سنہا نے کہا ’’مذہبی رہنماؤں کو عوام کا رہنما اور رہبر سمجھا جاتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ نوجوانوں کو روحانی اور اخلاقی رہنمائی فراہم کریں اور انہیں منشیات کے خطرات سے آگاہ کریں۔ میں دوبارہ دہراتا ہوں کہ یہ جنگ صرف انتظامیہ کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ جنگ ہے۔ آئیں اجتماعی طور پر یہ عہد کریں کہ ہم اپنے دیہات اور محلوں میں منشیات فروشوں کو پنپنے نہیں دیں گے۔ ہم منشیات کا شکار نوجوانوں کی بحالی کریں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ جب عوام کسی مقصد کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کی طاقت ہزار گنا بڑھ جاتی ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے دہشت گردی سے متاثرہ ہر خاندان کو انصاف فراہم کرنے کے اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے ضلع میں۲۰ء۶۰کروڑ روپے مالیت کے مختلف کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔ ان میں جبلی پورہ میں کھیل گاؤں ماڈرن اسپورٹس انفراسٹرکچر اور رہائشی سہولت (کھیل بھون) مرحلہ اول، چکی-کمال مونگھل میں کھیل سہولیات کی توسیع، نیلنڈروسو میں اسپورٹس کمپلیکس کی ازسرنو تعمیر اور ہرمحولہ رنبیرپورہ میں اسٹیڈیم کی تعمیر شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ کھیل سہولیات نوجوانوں کی توانائی کو صحیح سمت دیں گی اور نظم و ضبط اور کھیل کے جذبے کو مضبوط کریں گی۔انہوں نے نوجوانوں کے نمایاں چہروں کو اعزاز سے نوازا اور نوجوانوں میں کھیلوں کا سامان بھی تقسیم کیا۔
فنکاروں نے روایتی نکڑ ناٹک، بانڈ پاتھر اور مائم شو کے ذریعے’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘ پر مبنی پروگرام پیش کرتے ہوئے منشیات کے نقصانات کے بارے میں بیداری پیدا کی اور نوجوانوں کو صحت مند رہنے اور منشیات سے پاک معاشرے کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔










