کہا فریضہ حج کی ادائی کیلئےحج پرمٹ کا حصول بنیادی شرط ہے‘امن و سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل
(ویب ڈسیک)
سرینگر؍۹مئی
سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے تمام شہریوں، غیر ملکی مقیم افراد اور ہر قسم کے ویزا رکھنے والوں کے لیے حج کے ضوابط کی پابندی کرنے اور خود کو قانونی کارروائی سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
وزارت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فریضہ حج کی ادائی کے لیے باقاعدہ حج پرمٹ کا حصول ایک بنیادی شرط ہے۔ وزارت نے اس سال(۱۴۴۷)کے حج سیزن کے لیے وضع کردہ ہدایات پر عمل کرنے اور اللہ کے مہمانان کے امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔
مزید برآں وزارت نے کہا ہے کہ ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کی اطلاع مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، ریاض اور مشرقی صوبے میں(۹۱۱) پر، جبکہ مملکت کے دیگر صوبوں میں(۹۹۹)پر فوری طور پر دی جائے۔
اس دوران حج۲۰۲۶کے دوران دنیا بھر سے ادائیگی حج کے لیے پہنچنے والے عازمین حج کو علماء سے ضروری امور میں رہنمائی کے لیے اب بالمشافہ ان تک رسائی کے بغیر بھی رہنمائی میسر آ سکے گی۔ اس کا اہتمام ایک جدید مواصلاتی نطام سے کیا کیا گیا ہے جو علماء اورر عازمین حج کو باہم مربوط کرتا ہے۔
شیخ عبدالرحمان السدیس صدر حرمین شریفین مذہی امور کی مجلس کے سربراہ نے اس جدید مواصلاتی نطام کا افتتاح کر دیا ہے۔ اس سہولت کی فراہمی کے ساتھ ہی عازمین حج جس جگہ بھی ہوں گے ان کی رہنمائی کے لیے متعین علماء فوری رابطے میں آسکیں گے۔ اس سسٹم کے اختیار کرنے کی بدولت عازمین حج کو اپنے سوالات کے جواب اور مسائل کا حل مل سکے گا۔ شیخ عبدالرحمان السدیس نے کہا یہ ایک جدید کلاؤڈ بیسڈ مواصلاتی سسٹم ہے۔ اب حجاج کرام ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے اس پر بات چیت کر سکیں گے۔
شیخ السدیس نے کہا اس جدید سہولت سے دونوں مقدس مقامات پہنچنے والے عازمین حج کو فوری طور پر ان کے سوالات کے جواب مل سکیں گے۔ یہ نظام جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے حجاج کرام کی مشکلات پر قابو پایا جا سکے گا۔
حجاج کرام اپنی کالز کے ذریعے ہی علماء سے رابطے میں آجائیں گے اور ضروری سوالات پیش کر سکیں گے۔ اس کے ذریعے متعین کیے گئے علماء عازمین سے رابطے میں ہو جانے سے مساجد میں جم غفیر کے باوجود اپنا کام آسانی سے کر سکیں گے۔
شیخ عبدالرحمان السدیس نے اس کے افتتاح کے موقع پر بتایا یہ نظام ایک لچک دار نظام ہے جو ہر کسی کو اکاموڈیٹ کرے گا۔ مختلف مقامات اور صورتوں میں بھی یکساں بروئے کار ہوگا۔ حرمین شریفین کے دفاتر سے بھی جڑا ہوگا۔ معیار کو برقرار رکھنے کے لیے کالز کی ریکاڈنگ بھی ہو سکے گی۔










