’موقع پر بہترین تکنیکی معاونت فراہم کی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہماراساز و سامان اپنی مکمل جنگی صلاحیت کے ساتھ کارکردگی دکھا ئے‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۸مئی
چین نے پہلی مرتبہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ سال بھارت کے ساتھ چار روزہ تنازع کے دوران اُس نے پاکستان کو موقع پر تکنیکی معاونت فراہم کی تھی۔ یہ انکشاف بیجنگ کے سرکاری میڈیا رپورٹس میں سامنے آیا ہے۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے جمعرات کو ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنا (اے وی آئی سی) کے چینگدو ایئرکرافٹ ڈیزائن اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے انجینئر ژانگ ہینگ کا ایک انٹرویو نشر کیا۔ یہ ادارہ چین کے جدید لڑاکا طیاروں اور بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
ہانگ کانگ سے شائع ہونے والے ’’ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘‘ کے مطابق ژانگ ہینگ نے گزشتہ سال مئی میں ہونے والی چار روزہ جنگ کے دوران پاکستان کو تکنیکی معاونت فراہم کی تھی۔
پاکستانی فضائیہ اس وقت چینی ساختہ جے۱۰سی ای لڑاکا طیارے استعمال کرتی ہے، جو اے وی آئی سی کے ذیلی ادارے کے تیار کردہ ہیں۔
ژانگ ہینگ نے سی سی ٹی وی کو بتایا، ’’سپورٹ بیس پر ہم اکثر لڑاکا طیاروں کی گرج سن رہے تھے اور فضائی حملے کے سائرن مسلسل بج رہے تھے۔ مئی کی دوپہر تک درجہ حرارت تقریباً۵۰ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا تھا۔ یہ ہمارے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر ایک سخت آزمائش تھی۔‘‘انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم کو اس بات نے متحرک رکھا کہ وہ ’’موقع پر بہترین تکنیکی معاونت‘‘ فراہم کرے اور یہ یقینی بنائے کہ ان کا ساز و سامان ’’اپنی مکمل جنگی صلاحیت کے ساتھ کارکردگی دکھا سکے۔‘‘
ژانگ نے مزید کہا، ’’یہ صرف جے۱۰سی ای کی کامیابی کا اعتراف نہیں تھا بلکہ روزانہ شانہ بشانہ کام کرنے کے دوران قائم ہونے والے گہرے تعلقات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔‘‘
اسی ادارے کے ایک اور اہلکار شو دا نے لڑاکا طیارے کو ’’بچے‘‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا، ’’ہم نے اسے پروان چڑھایا، اس کی دیکھ بھال کی اور پھر صارف کے حوالے کیا۔ اب اسے ایک بڑے امتحان کا سامنا تھا۔ جے۱۰سی ای کی غیر معمولی کارکردگی پر ہمیں حیرت نہیں ہوئی کیونکہ ہمیں معلوم تھا کہ صحیح موقع ملتے ہی یہ اپنی صلاحیت ثابت کرے گا۔‘‘
جے۱۰سی ای، جے۱۰سی سیریز کا برآمدی ماڈل ہے اور اسے۴ء۵ نسل کے جدید لڑاکا طیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان چین کے علاوہ ان طیاروں کا واحد خریدار ملک ہے، جس نے۲۰۲۰میں۳۶جے۱۰سی ای طیاروں اور۲۵۰ پی ایل۱۵میزائلوں کا آرڈر دیا تھا۔
جولائی۲۰۲۵ میں بھارتی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے۸۱فیصد فوجی سازوسامان چینی ساختہ ہیں اور چین پاکستان کو اپنی فوجی ٹیکنالوجی آزمانے کے لیے ’’لائیو لیب‘‘ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق چین نے۲۰۱۵سے پاکستان کو۸ء۲؍ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کیے ہیں۔۲۰۲۰سے۲۰۲۴کے درمیان چین دنیا کا چوتھا بڑا اسلحہ برآمد کنندہ رہا جبکہ اس کی۶۳فیصد برآمدات صرف پاکستان کو گئیں۔
بھارتی فوج کے ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل راہل آر سنگھ نے جولائی۲۰۲۵میں کہا تھا کہ ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران پاکستان کے ساتھ چین اور ترکی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
سنگھ نے کہا تھا، ’’ہمارے سامنے ایک سرحد اور دو نہیں بلکہ تین مخالف تھے۔ پاکستان اگلی صف میں تھا جبکہ چین ہر ممکن مدد فراہم کر رہا تھا۔ پاکستان کے۸۱فیصد فوجی ہتھیار چینی ہیں۔ چین اپنے ہتھیاروں کو حقیقی جنگی حالات میں آزما رہا ہے، گویا پاکستان اس کے لیے ایک لائیو لیب ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ جنرل سنگھ کے مطابق پاکستان کو چین کی جانب سے ریئل ٹائم معلومات اور دیگر دفاعی معاونت بھی فراہم کی جا رہی تھی۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان اب چین سے۴۰ شینیانگ جے۳۵پانچویں نسل کے اسٹیلتھ لڑاکا طیارے حاصل کرنے جا رہا ہے، جس کے بعد وہ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہو جائے گا جن کے پاس اسٹیلتھ جنگی صلاحیت موجود ہے۔
امریکی دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی کی۲۰۲۵ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت چین کو اپنا ’’بنیادی حریف‘‘ جبکہ پاکستان کو نسبتاً ’’ثانوی سیکورٹی چیلنج‘‘ تصور کرتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال۲۲؍ اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے، جس میں۲۶ افراد ہلاک ہوئے تھے، کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ بھارت نے اس کے جواب میں ’’آپریشن سندور‘‘ کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا، جس میں جیشِ محمد، لشکرِ طیبہ اور حزب المجاہدین سے وابستہ۱۰۰سے زائد دہشت گرد مارے گئے تھے۔










