کنگن انتظامیہ کی ایڈوائزری جاری،’نالہ میں نہانے سے گریز کیا جائے‘
گاندربل؍۸مئی
نالہ سندھ میں لاپتہ ہوئے نوجوان کی لاش۱۳روز بعد برآمد کر لی گئی۔
متوفی کی شناخت منیر احمد شاہ ولد محبوب شاہ ساکن وُسان بیلہ کے طور پر ہوئی ہے، جو۲۶؍اپریل سے لاپتہ تھے۔
ریسکیو آپریشن میں اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کی مختلف ٹیمیں، جن میں ایس ڈی آر ایف گاندربل، ایس ڈی آر ایف گنڈ اور ایس ڈی آر ایف کیو آر ٹی مانسبل شامل تھیں، گزشتہ۱۳دنوں سے مصروف تھیں۔
ان کے علاوہ پولیس، سری نگر سے اضافی ریسکیو ٹیم اور مقامی رضاکار بھی آپریشن میں شامل رہے۔
دریں اثنا، نالہ سندھ اور دیگر آبی ذخائر میں حالیہ دنوں میں پیش آئے ڈوبنے کے واقعات اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے پیش نظر سب ڈویژنل انتظامیہ کنگن نے جمعہ کے روز ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے نالہ سندھ کے اطراف رہنے والے لوگوں کو ندی میں نہانے سے گریز کرنے اور غیر معمولی احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔
ایس ڈی ایم کنگن کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ انتظامیہ کے نوٹس میں آیا ہے کہ سب ڈویژن کنگن اور دیگر اضلاع کے نوجوان، بچے اور بزرگ افراد نالہ سندھ، وانگت نالہ، پی ڈی سی کینال اور بروالہ آبشار جیسے کھلے آبی ذخائر کے کناروں پر جاتے ہیں، جو انتہائی خطرناک عمل ہے کیونکہ ان مقامات پر مناسب حفاظتی ڈھانچہ، ریسکیو سہولیات اور محفوظ ڈیزائن موجود نہیں ہیں۔
ایڈوائزری میں کہا گیا کہ ان مقامات پر تیراکی کی کوئی باضابطہ یا تصدیق شدہ سہولت موجود نہیں اور ماضی و حال کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں اکثر جان لیوا حادثات کا سبب بنتی ہیں، جس سے خوشی کے لمحات خاندانوں اور برادریوں کے لیے سانحہ بن جاتے ہیں۔
انتظامیہ نے عوام کو سختی سے ہدایت دی ہے کہ وہ کسی بھی کھلے آبی ذخیرے کے قریب جانے، داخل ہونے یا کھیلنے سے مکمل گریز کریں۔ والدین اور سرپرستوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں ندی نالوں یا دیگر آبی ذخائر کے قریب جانے سے روکیں۔
نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر سی ایم ڈی/جنریشن یو ایس ایچ پی-II کنگن اور اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر فلڈ کنٹرول ڈویژن گاندربل کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ حساس مقامات پر فیلڈ عملے کو متحرک رکھیں۔
تحصیلدار کنگن اور گنڈ کو لمبرداروں اور چوکیداروں کو نگرانی اور خطرناک سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے متحرک کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ ایس ایچ او کنگن، گاندربل، گنڈ اور سونہ مرگ کو آبی ذخائر کے اطراف سخت نگرانی برقرار رکھنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔










