ہمسایہ ملک کوسرحد پار دہشت گردی کی حمایت سے قابلِ اعتماد اور ناقابلِ واپسی انداز میں دستبردار ہونا ہوگا:جیسوال
ایجنسیز
نئی دہلی؍۷مئی
بھارت نے جمعرات کو ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا اسے پورا حق حاصل ہے اور اس نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
نئی دہلی کا یہ سخت پیغام آپریشن سندور کی پہلی برسی کے موقع پر سامنے آیا۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا، ’’آج ہم آپریشن سندور کی پہلی برسی منا رہے ہیں۔ پوری دنیا نے پہلگام دہشت گرد حملے کو اُس کی اصل شکل میں دیکھا۔ ہم نے پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کی سرپرستی کا منہ توڑ جواب دیا۔‘‘
جیسوال نے کہا، ’’دنیا جانتی ہے کہ سرحد پار دہشت گردی طویل عرصے سے پاکستان کی ریاستی پالیسی کا ایک آلہ رہی ہے۔ بھارت میں ہمیں دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔‘‘
ترجمان نے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
پہلگام دہشت گرد حملے کے جواب میں بھارت نے گزشتہ سال۷مئی کو آپریشن سندور شروع کیا تھا، جس کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے تھے، جن میں کم از کم۱۰۰ دہشت گرد مارے گئے تھے۔
ان حملوں کے بعد پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا اور پاکستان نے جوابی حملے کیے، تاہم بھارتی فوج نے ان میں سے بیشتر کو ناکام بنا دیا۔
دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان ہاٹ لائن پر بات چیت کے بعد۱۰مئی کو فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کے ساتھ یہ کشیدگی ختم ہوئی۔
سندھ طاس معاہدہ معطل رکھنے کے حوالے سے جیسوال نے نامہ نگاروں سے کہا، ’’پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کی سرپرستی کے جواب میں سندھ طاس معاہدہ معطل رکھا گیا ہے۔ پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی کی حمایت سے قابلِ اعتماد اور ناقابلِ واپسی انداز میں دستبردار ہونا ہوگا۔‘‘
سندھ طاس معاہدہ، جو بھارت اور پاکستان کے درمیان دریائی پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے، پہلگام حملے کے بعد معطل کر دیا گیا تھا، جسے دونوں ممالک کے درمیان آبی اشتراک کے انتظامات میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک سال گزر جانے کے باوجود بھارت نے اپنے ڈیموں کے دروازے بند رکھے ہوئے ہیں۔
ضلع رام بن میں دریائے چناب پر واقع بگلیہار ڈیم کے تمام گیٹ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے ایک سال بعد بھی مسلسل بند ہیں۔ (ایجنسیاں)










