ایجنسیز
نئی دہلی ؍۷مئی
بھارتی فوج نے جمعرات کو آپریشن سندور کی پہلی برسی کے موقع پر کہا کہ اس آپریشن نے یہ واضح پیغام دیا کہ پاکستان میں کوئی بھی دہشت گرد پناہ گاہ محفوظ نہیں ہے اور یہ مشن محض آغاز تھا۔
بھارتی فضائیہ، بحریہ اور بری فوج کے فوجی آپریشنز کے سربراہان نے جے پور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس کارروائی کے مختلف پہلوؤں کی تفصیلات پیش کیں، جسے سرحد پار دہشت گردی کی حمایت پر پاکستان کو سزا دینے کے لیے نصف صدی میں بھارت کا سب سے وسیع جنگی مشن قرار دیا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی، جنہوں نے فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) کی حیثیت سے اس کارروائی کو انجام دینے میں کلیدی کردار ادا کیا، نے کہا، ’’آپریشن سندور اختتام نہیں تھا بلکہ یہ صرف آغاز تھا۔‘‘
گھئی نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران بھارت نے اپنے سابقہ طریقۂ کار سے آگے بڑھتے ہوئے لائن آف کنٹرول اور پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی سرحد کے پار دہشت گردی کے ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
ڈی جی ایم او نے کہا کہ یہ ہماری قوم کی جانب سے عزم، ذمہ داری اور تزویراتی تحمل کا اظہار تھا، جسے نہایت درستگی، تناسب اور واضح مقصد کے ساتھ انجام دیا گیا۔انہوں نے کہا ’’بھارت اپنی خودمختاری، اپنی سلامتی اور اپنے عوام کا بھرپور، پیشہ ورانہ اور انتہائی ذمہ داری کے ساتھ دفاع کرے گا۔‘‘
گھئی نے کہا کہ آپریشن سندور نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان میں کوئی بھی دہشت گرد پناہ گاہ محفوظ نہیں ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم نے ایک پیچیدہ کثیر جہتی آپریشن کی منصوبہ بندی کی، اسے انجام دیا اور نہایت مختصر وقت میں مکمل بھی کیا۔‘‘
ایئر مارشل اے کے بھارتی، جو اُس وقت ڈائریکٹر جنرل آف ایئر آپریشنز تھے، نے کہا کہ آپریشن سندور نے فضائی طاقت کی برتری کو دوبارہ ثابت کیا۔
۲۲ ؍اپریل کو پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے، جس میں زیادہ تر سیاحوں سمیت۲۶؍افراد ہلاک ہوئے تھے، کے جواب میں بھارت نے گزشتہ سال۷مئی کو آپریشن سندور شروع کیا تھا، جس کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے تھے۔
اس کارروائی کے بعد پاکستان کے ساتھ کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا اور پاکستان نے جوابی حملے کیے، تاہم بھارتی فوج نے ان میں سے بیشتر کو ناکام بنا دیا۔دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان ہاٹ لائن پر بات چیت کے بعد۱۰مئی کو فوجی کارروائیاں روکنے کے حوالے سے مفاہمت طے پانے پر یہ کشیدگی ختم ہوئی۔










