’خدا را قرآن کو سیاست میں نہ گھسیٹیں‘لوگ مایوس ہو چکے ہیں ‘این سی سیاسی لڑائی لڑنے کیلئے آزاد ہے ‘
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۶مئی
پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے بدھ کے روز برسرِ اقتدار نیشنل کانفرنس پر اپنی ’ناکامیوں‘ سے توجہ ہٹانے کے لیے مذہبی صحیفے کو سیاست میں گھسیٹنے کا الزام عائد کیا۔
محبوبہ نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا’’خدا کے لیے قرآن کو سیاست میں نہ گھسیٹیں۔ وہ (این سی) حکومت میں گزشتہ دو برس کی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ایسا کر رہے ہیں۔ لوگ ان سے مایوس ہو چکے ہیں‘‘۔
سابق وزیر اعلیٰ ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں جس میں زڈی بل کے ایم ایل اے اور این سی کے چیف ترجمان تنویر صادق کے اس مطالبے کا حوالہ دیا گیا تھا کہ پی ڈی پی سربراہ اور ان کے ایم ایل ایز قرآن پر حلف لیں کہ انہوں نے گزشتہ سال جموں و کشمیر میں راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا۔
ایک آر ٹی آئی جواب میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں ہوئے راجیہ سبھا انتخابات کے لیے پی ڈی پی نے کوئی چیف ایجنٹ مقرر نہیں کیا تھا، جس کے بعد نیشنل کانفرنس کی جانب سے یہ الزامات سامنے آئے کہ اپوزیشن جماعت کے تین ایم ایل ایز نے انتخابات میں بی جے پی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
محبوبہ نے نیشنل کانفرنس پر اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا۔
پی ڈی پی صدر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ان کی جماعت کے خلاف سیاسی لڑائی لڑنے کے لیے آزاد ہے، لیکن ایسا کرتے وقت مذہبی صحیفوں کو اس میں شامل نہ کیا جائے۔
اس دوران پی ڈی پی رہنما وحید پرہ نے بدھ کے روز کہا کہ گزشتہ سال جموں و کشمیر میں راجیہ سبھا انتخابات کے حوالے سے نیشنل کانفرنس کا شور شرابہ’غیر نتیجہ خیز‘ ہے اور یہ سراج العلوم اسکول کی یو اے پی اے کے تحت ضبطی جیسے اہم معاملات سے ’توجہ ہٹانے‘ کی ایک کوشش ہے۔
نیشنل کانفرنس (این سی) نے پی ڈی پی پر راجیہ سبھا انتخابات میں بی جے پی کی مدد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
این سی نے انتخابات میں تین نشستیں جیتی تھیں جبکہ بی جے پی نے ایک نشست حاصل کی تھی۔ ایک نشست کے نقصان کا الزام کراس ووٹنگ پر عائد کیا گیا تھا۔
پرہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا’’راجیہ سبھا ووٹ پر نیشنل کانفرنس کا شور و غوغا بے محل ہے۔ بنیادی طور پر یہ معاملہ راجیہ سبھا کا نہیں ہے بلکہ یہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، خاص طور پر سراج العلوم تنازعہ اور سرکاری ریکارڈ سے اردو کے خاتمے کے معاملے سے‘‘۔
شوپیاں کے امام صاحب میں واقع دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو گزشتہ ماہ یو اے پی اے کے تحت ایک غیر قانونی ادارہ قرار دیا گیا تھا۔
انتظامیہ نے کہا تھا کہ شوپیاں ضلع میں ایک کالعدم تنظیم سے وابستہ افراد کے زیر انتظام چلنے والے اس مدرسے کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت ’غیر قانونی ادارہ‘ قرار دیا گیا ہے۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی نے نیشنل کانفرنس پر جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے قائم کیے گئے اتحاد ’پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن‘ (پی اے جی ڈی) کو توڑنے کا بھی الزام عائد کیا۔انہوں نے کہا’’نیشنل کانفرنس نے پی اے جی ڈی کو منتشر کر دیا۔ مزید یہ کہ جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات کے دوران اس نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پی ڈی پی کو انڈیا اتحاد کے بندوبست سے باہر رکھا جائے، جس سے انتخابی اتحاد مزید متاثر ہوا‘‘۔
پرہ نے کہا کہ اس پس منظر میں یہ واضح ہے کہ گزشتہ سال جموں و کشمیر کی چار راجیہ سبھا نشستوں کے انتخابات میں پی ڈی پی پر این سی کے ساتھ تعاون لازم نہیں تھا۔انہوں نے کہا’’اس کے باوجود ہم نے غیر مشروط حمایت فراہم کی، حالانکہ ہمیں نیشنل کانفرنس کے اندرونی اختلافات کا علم تھا۔ لہٰذا راجیہ سبھا نتائج کے لیے پی ڈی پی کو مورد الزام ٹھہرانا نہ صرف غلط بلکہ غیر نتیجہ خیز بھی ہے۔ عمر صاحب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ناکامی نوائے صبح کے قریب ہی موجود ہے‘‘۔
پلوامہ سے تعلق رکھنے والے ایم ایل اے نے کہا کہ یہ الزامات لگا کر نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کی ’فراخ دلی‘ کا منفی جواب دیا ہے۔انہوں نے کہا’’انہوں نے نہ تو ووٹنگ سے غیر حاضر رہنے کا راستہ اختیار کیا جو بالواسطہ طور پر بی جے پی کی مدد کر سکتا تھا ‘ اور نہ ہی کوئی شرط رکھی۔ ان کی واحد تجویز یہ تھی کہ تیسری راجیہ سبھا نشست کو محفوظ بنایا جائے اور کانگریس کی جانب سے چھوڑ دی گئی غیر یقینی چوتھی نشست کو الزام تراشی کا ذریعہ نہ بنایا جائے‘‘۔
پرہ نے کہا کہ پی ڈی پی کے تین ووٹوں کے لیے ایجنٹ مقرر کرنا نیشنل کانفرنس کی ذمہ داری تھی۔انہوں نے سوال کیا’’اگر پی ڈی پی کے خلاف ان کے شور مچانے کی وجہ یہ ہے کہ پی ڈی پی نے اپنے تین ووٹوں کے لیے ایجنٹ مقرر نہیں کیا، تو میں معزز وزیر اعلیٰ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ پی ڈی پی کے ووٹ دینے والے اراکین پر اعتماد نہیں کرتے تو پھر وہ جادوئی طور پر پی ڈی پی کے مقرر کردہ ایجنٹ پر کیسے اعتماد کر لیتے؟‘‘










