ایجنسیز
سرینگر؍۶مئی
جے کے این سی صدر فاروق عبداللہ نے منگل کے روز جموں و کشمیر میں وزراء کونسل میں ممکنہ توسیع سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا۔
کے این ایس کے مطابق، انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا حکومت وزراء کونسل میں توسیع کا منصوبہ بنا رہی ہے، کہا’’جموں و کشمیر حکومت میں کسی توسیع کی توقع نہ رکھیں‘‘۔
ان کا یہ بیان گزشتہ کئی دنوں سے جاری ان افواہوں کے درمیان سامنے آیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت مزید وزراء کو کابینہ میں شامل کر سکتی ہے۔جموں و کشمیر حکومت میں اس وقت وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سمیت پانچ کابینہ ارکان شامل ہیں۔
وزراء کونسل میں وزیر اعلیٰ، ایک نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، اور تین دیگر وزراء شامل ہیں۔
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے۱۶؍ اکتوبر۲۰۲۴کو موجودہ حکومت تشکیل دی تھی، جب عمر عبداللہ نے مرکزی زیر انتظام علاقے کے پہلے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا تھا۔
عمر عبداللہ آزاد اراکین اسمبلی، عام آدمی پارٹی اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کی حمایت سے مخلوط حکومت کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال۲۰۲۴کے اسمبلی انتخابات کے بعد سامنے آئی، جن میں نیشنل کانفرنس۴۲ نشستوں کے ساتھ واحد سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔
نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ ’آپریشن سندور‘ نے اپنے نتائج دیے ہیں، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’’جنگیں حل نہیں لاتیں بلکہ صرف تباہی اور مصیبت پیدا کرتی ہیں۔‘‘
داکٹر فاروق نے کہا’’آپریشن سندور نے اپنے نتائج دیے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اب جنگوں کا کوئی سوال نہیں ہونا چاہیے۔ جنگیں کوئی حل نہیں لاتیں، وہ صرف تباہی لاتی ہیں۔ یوکرین اور وہاں کی تباہی کو دیکھیے، مشرق وسطیٰ کو دیکھیے۔ یہاں گیس کی سپلائی کی صورتحال دیکھیں۔ قطر کو گیس سپلائی بحال کرنے میں ایک یا دو سال لگ جائیں گے‘‘۔
خلیجی صورتحال سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دنیا اس وقت جنگ کے لیے تیار نہیں کیونکہ معاشی حالات پہلے ہی خراب ہیں۔انہوں نے کہا’’گھبرائیں نہیں، دنیا جنگ کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہر ملک کی معاشی حالت پہلے ہی خراب ہے اور کوئی ملک جنگ نہیں چاہتا۔ مشرق وسطیٰ میں زیادہ تر تیل اور گیس موجود ہے، اور اگر دباؤ برقرار رہا تو دنیا کی صورتحال اس قدر خراب ہو جائے گی کہ جینا مشکل ہو جائے گا‘‘۔
خصوصی نظر ثانی(ایس آئی آر ) کے انتخابی نتائج پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوال پر عبداللہ نے کہا’’ہر چیز کا اثر پڑا تھا‘‘۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کا انڈیا اتحاد پہلے ہی مضبوط ہے اور اس میں کسی چیز کی کمی نہیں۔
پنجاب میں دھماکوں سے متعلق سوال کے جواب میں سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ بھارت میں دھماکے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں اور اس میں کوئی نئی بات نہیں۔انہوں نے نامہ نگاروں سے کہا’’آپ کو گھبرانا نہیں چاہیے‘‘۔
جموں و کشمیر میں اپوزیشن کی جانب سے نیشنل کانفرنس حکومت کو نشانہ بنانے کے حوالے سے سوال پر عبداللہ نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ اپوزیشن اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا’’اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو پھر وہ زندہ کیسے رہیں گے؟ انہیں جو کہنا ہے کہنے دیں۔ ہماری پارٹی جس طرح کام کر رہی ہے، کرتی رہے گی، اور ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔‘‘(ایجنسیاں)










