’پارسل ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ اور بہتر ہینڈلنگ سسٹم کے ذریعے ہمیں امسال چیری کی ترسیل میں نمایاں اضافہ متوقع ہے‘
(ویب ڈیسک )
سری نگر؍۵مئی
چیری کی فصل کے پکنے کے ساتھ ہی وادی کشمیر کے کاشتکار اس بار اپنی پیداوار کو بیرونی منڈیوں تک پہنچانے کے طریقۂ کار میں ایک بڑی تبدیلی کے منتظر ہیں، جہاں بہتر ریلوے سہولیات ان کے لیے نئی امید بن کر ابھر رہی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس سال تقریباً۱۰ہزار میٹرک ٹن چیری ریل کے ذریعے مختلف شہروں تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
محکمہ باغبانی اور ریلوے سے وابستہ حکام نے بتایا کہ پارسل ٹرینوں کی بڑھتی ہوئی دستیابی اور ایئر کنڈیشنڈ کارگو سہولیات متعارف کرانے کے منصوبے سے اس نازک اور قیمتی پھل کی ترسیل کا نظام مزید بہتر ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد کم وقت میں محفوظ ترسیل کو یقینی بنانا اور راستے میں خراب ہونے والے مال کو کم کرنا ہے۔
ریلوے کے ایک افسر نے بتایا کہ گزشتہ سال چیری کی ریل کے ذریعے ترسیل کے مثبت نتائج سامنے آئے تھے، جس کے بعد اس سیزن میں خدمات کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ ’’پارسل ٹرینوں کی تعداد میں اضافہ اور بہتر ہینڈلنگ سسٹم کے ذریعے ہمیں اس سال چیری کی ترسیل میں نمایاں اضافہ متوقع ہے‘‘۔
کشمیر اپنی اعلیٰ معیار کی چیری کے لیے مشہور ہے، خاص طور پر سری نگر، گاندربل، شوپیان اور بارہمولہ اضلاع میں اس کی بڑی پیداوار ہوتی ہے۔ تاہم کم مدتِ ذخیرہ (شیلف لائف) کے باعث چیری کی ترسیل ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہی ہے، کیونکہ کاشتکار زیادہ تر سڑک کے ذریعے دہلی، ممبئی اور چندی گڑھ جیسی منڈیوں تک رسائی حاصل کرتے رہے ہیں۔
سڑک کے ذریعے ترسیل میں تاخیر، زیادہ لاگت اور راستے میں مال کے خراب ہونے جیسے مسائل کسانوں کو اکثر نقصان پہنچاتے رہے ہیں۔ ایسے میں ریل کے ذریعے ترسیل کو ایک ممکنہ گیم چینجر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مقامی باغبانوں نے اس پیش رفت پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تیز اور قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ انہیں بہتر قیمت دلانے میں مدد دے سکتی ہے۔
شوپیان کے ایک کاشتکار نے کہا’’چیری انتہائی حساس پھل ہے، معمولی تاخیر بھی اس کے معیار کو متاثر کرتی ہے۔ اگر ٹرین کے ذریعے جلد ترسیل ممکن ہو تو ہمیں براہِ راست فائدہ ہوگا‘‘۔
گاندربل کے ایک اور باغبان نے کہا کہ ٹرانسپورٹ لاگت میں کمی سے منافع میں اضافہ ہوگا۔’’سڑک کے ذریعے ترسیل مہنگی اور غیر یقینی ہوتی ہے، جبکہ ریل ایک مستحکم متبادل فراہم کر سکتی ہے، خاص طور پر فصل کے عروج کے دنوں میں‘‘۔
درجۂ حرارت کو کنٹرول کرنے والی کارگو ٹرینوں کے منصوبے کو بھی سراہا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے طویل فاصلے تک چیری کی تازگی اور معیار برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے نئی منڈیاں کھل سکتی ہیں اور کشمیری چیری کی قومی سطح پر مسابقت میں اضافہ ہوگا۔
حکام کے مطابق محکمہ باغبانی، ریلوے اور تاجروں کے درمیان تال میل کو مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ سیزن کے دوران ترسیل کا عمل ہموار رہے۔ لوڈنگ پوائنٹس، پیکجنگ معیارات اور شیڈولنگ کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ اضافی سپلائی کو مؤثر طریقے سے سنبھالا جا سکے۔
اگر یہ اقدام کامیاب رہا تو نہ صرف فصل کے بعد ہونے والے نقصانات میں کمی آئے گی بلکہ کشمیر کے فروٹ سپلائی نظام کی جدید کاری میں بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، جس سے ہزاروں کاشتکاروں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔










