’ڈرائیونگ لائسنس اور پاسپورٹ منسوخ کیا جا سکتا ہے ‘منشیات کی سمگلنگ کا براہ راست تعلق دہشت گردی سے ہے ‘
جموں و کشمیر انتظامیہ منشیات کے متاثرین کی بحالی کے لیے تین سالہ نگرانی پروگرام پر کام کر رہی ہے:لیفٹیننٹ گورنر
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲مئی
لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے ہفتہ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کیلئے تین سالہ نگرانی پروگرام پر کام کر رہی ہے، جبکہ منشیات فروشوں کے خلاف سخت اقدامات، بشمول ڈرائیونگ لائسنس کی منسوخی اور پاسپورٹ کی منسوخی کی سفارش، پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ان کے خیال میں جموں و کشمیر میں منشیات کی اسمگلنگ کا براہ راست تعلق دہشت گردی سے ہے۔
سنہا نے کہا’’کچھ منشیات فروش شاید عالیشان مکانات بنا رہے ہوں اور معاشی طور پر خوشحال ہو رہے ہوں، لیکن آخرکار زیادہ تر رقم دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دینے میں استعمال ہوتی ہے‘‘۔
نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان کے تحت اتوار کو سری نگر میں منعقد ہونے والی ایک بڑی پیدل ریلی (پدیاترا) سے قبل، لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مزید بحالی مراکز قائم کیے جائیں گے، جبکہ موجودہ مراکز میں سہولیات کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔
ایل جی نے راج بھون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’یہ درست ہے کہ ہمیں مزید بحالی مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے، لیکن یہ فوری طور پر ممکن نہیں۔ اس لیے موجودہ مراکز میں متاثرین کے علاج کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ محکمہ صحت کو ہدایت دی گئی ہے کہ اسپتالوں میں ایسے افراد کے لیے او پی ڈی اور آئی پی ڈی سہولیات مناسب طور پر دستیاب ہوں‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ انتظامیہ متاثرین کی بحالی کے لیے ایک تفصیلی منصوبہ بھی تیار کر رہی ہے تاکہ جو افراد نشے کی لت سے نکل آئیں، انہیں تین سال تک نگرانی میں رکھا جا سکے اور ان کی مکمل بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کے حوالے سے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ایک جامع حکمت عملی کے تحت کئی روک تھام کے اقدامات کیے گئے ہیں۔
سنہا نے کہا’’ایک معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پی) جاری کیا گیا ہے جس کے تحت منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف نہ صرف فوجداری مقدمات درج ہوں گے بلکہ ان کے ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیے جائیں گے۔ اگر ان کے پاس گاڑی ہوگی تو اس کی رجسٹریشن ختم کی جائے گی اور پاسپورٹ ہونے کی صورت میں اسے منسوخ کرنے کی سفارش کی جائے گی‘‘۔
ایل جی نے مزید کہا کہ ایسے افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے، آدھار کارڈ پر بھی کارروائی ہوگی، مفرور ہونے کی صورت میں لک آؤٹ نوٹس جاری کیا جائے گا اور این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت جائیداد ضبط کی جائے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ انتظامیہ سماج میں بیداری پیدا کرنے کے لیے مذہبی رہنماؤں کو بھی شامل کر رہی ہے اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس ناسور کے خلاف اجتماعی جدوجہد کریں۔
سنہا نے کہا’’یہ کام سب کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔ جب پولیس کی کارروائی، قانون کا خوف اور معاشرے کی طاقت ایک ساتھ آتی ہے تو کامیابی آسان ہو جاتی ہے‘‘۔انہوں نے بتایا کہ۱۱؍اپریل کو جموں کے ایم اے اسٹیڈیم سے۱۰۰ روزہ مہم کا آغاز کیا گیا تھا اور اب تک جموں ڈویژن کے آٹھ اضلاع میں پیدل مارچ کیے جا چکے ہیں۔
ایل جی نے کہا’’مجھے لگتا ہے کہ صرف۲۱ دنوں میں اس کے اثرات واضح نظر آ رہے ہیں۔ اب تک تقریباً۵۰ سے۶۰ لاکھ افراد مختلف مہمات میں حصہ لے چکے ہیں۔ جموں و کشمیر کے دونوں خطوں میں مقدمات کے اندراج میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور کارروائیاں مؤثر انداز میں جاری ہیں‘‘۔
مہم کے تحت لیفٹیننٹ گورنر اتوار کے روز سری نگر میں ٹی آر سی چوک کے آسٹروٹرف فٹبال اسٹیڈیم سے لال چوک تک پیدل مارچ کی قیادت کریں گے۔










