خام تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں :سرکاری ذرائع
ایجنسیز
نئی دہلی؍ یکم مئی
سرکاری ذرائع نے جمعہ کے روز کہا کہ مستقبل قریب میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ خارج از امکان نہیں، کیونکہ عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باوجود گزشتہ چار برسوں سے ریٹیل قیمتیں منجمد ہیں جس کے باعث نقصانات بڑھ رہے ہیں۔
اس ہفتے بین الاقوامی خام تیل کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح۱۲۶؍امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، اگرچہ بعد میں کچھ کمی آئی مگر قیمتیں اب بھی۱۱۰ ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں۔
آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت محدود رہنے اور امریکہ و ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث صورتحال برقرار ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق قریب مستقبل میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
اس سے قبل انڈین آئل کارپوریشن(آئی او سی) نے صنعت کی جانب سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی توانائی لاگت میں اضافے کے باوجود پٹرول، ڈیزل اور گھریلو ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جا رہا۔
تاہم سرکاری تیل کمپنیوں نے کمرشل ایل پی جی، صنعتی ڈیزل‘۵کلوگرام ایل پی جی اور بین الاقوامی ایئرلائنز کے لیے جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔
ماہرین نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے۲۹؍ اپریل کو اختتام کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر۲۵سے۲۸روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب۲۸فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جس کے جواب میں تہران کی کارروائیوں کے باعث آبنائے ہرمز تقریباً بند ہو گئی یہ دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
گزشتہ ہفتے وزارتِ تیل کے ایک سینئر افسر نے بتایا تھا کہ سرکاری تیل کمپنیوں کو تقریباً چار برس سے قیمتیں منجمد رکھنے کے باعث فی لیٹر پٹرول پر تقریباً۲۰ روپے اور ڈیزل پر تقریباً۱۰۰روپے کا نقصان ہو رہا ہے، تاہم فی الحال قیمتیں بڑھانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔
گزشتہ سال خام تیل کی قیمت۷۰ ڈالر فی بیرل تھی جو اس ماہ اوسطاً۱۱۴ڈالر سے زائد رہی۔پٹرول اور ڈیزل کی ریٹیل قیمتیں اپریل۲۰۲۲کے آغاز سے منجمد ہیں۔ اس دوران عالمی قیمتیں کبھی بڑھیں اور کبھی کم ہوئیں۔
جب قیمتیں کم ہوئیں تو سرکاری تیل کمپنیوں نے منافع کمایا جسے بعد میں بڑھتی قیمتوں کے دوران نقصانات پورے کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
فی الحال دہلی میں پٹرول کی قیمتء۷۷۹۴ روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل۸۷ء۶۷روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔ (ایجنسیاں)










