’نہیں سوچا تھا کہ ٹرین ٹکٹ کیلئے سفارش کی ضرورت پڑیگی‘
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۳۰؍ اپریل
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں اور سری نگر کے درمیان وندے بھارت ٹرین سروس کی توسیع پر ریلوے وزیر اشونی ویشنو اور مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جمعرات کو جموں و کشمیر کے لیے ایک ڈرائی (ان لینڈ) پورٹ کے قیام کا مطالبہ کیا تاکہ تجارت اور کاروبار کو فروغ دیا جا سکے۔
جموں ریلوے اسٹیشن سے وندے بھارت ٹرین کے افتتاح کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ نے کہا’’میں جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے ویشنو اور ان کے توسط سے مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ریل کے ذریعے جموں کو کشمیر سے جوڑا ہے‘‘۔
ریلوے رابطے کے تجارتی فوائد کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس سے سیمنٹ اور گاڑیوں سمیت دیگر اشیاء کی نقل و حمل ممکن ہوئی ہے، جس سے تجارت کو بڑا فروغ ملے گا۔
عمرعبداللہ نے کہا’’اس ٹرین کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے نہ صرف لوگوں کو سفر کی سہولت دی ہے بلکہ سیمنٹ جیسے سامان کی ترسیل بھی ممکن بنائی ہے۔ میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ ماروتی گاڑیاں سری نگر پہنچائی جا رہی ہیں اور کشمیر کے پھل ریل کے ذریعے باہر بھیجے جا رہے ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے ریلوے وزیر سے اپیل کی کہ جموں و کشمیر میں ایک ان لینڈ پورٹ قائم کیا جائے تاکہ برآمدات کے لیے کسٹمز کلیئرنس کو آسان بنایا جا سکے۔
ان کاکہنا تھا’’میری ریلوے وزیر سے درخواست ہے، اگرچہ یہ ان کی وزارت کا براہِ راست معاملہ نہیں، لیکن وہ اپنی نیک نیتی سے اس میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ جموں و کشمیر میں ایک ان لینڈ پورٹ قائم کیا جائے۔ یہاں ڈرائی پورٹ کی فوری ضرورت ہے تاکہ ہمیں اپنی برآمدات کے لیے دوسرے شہروں میں کسٹمز کلیئرنس کی ضرورت نہ پڑے۔ اگر یہ سہولت یہیں دستیاب ہو تو ہمارے کاروبار کو بہت فائدہ ہوگا‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ اس معاملے کو مرکزی حکومت کے ساتھ اٹھائیں گے اور وہاں موجود مرکزی وزراء اشونی ویشنو اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ سمیت اراکینِ پارلیمنٹ سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو آگے بڑھائیں۔ان کاکہنا تھا’’یہ ان لینڈ یا ڈرائی پورٹ جموں و کشمیر کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا‘‘۔
جموں اور سری نگر کے درمیان ریل رابطے کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لوگ کئی برسوں سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ نےکہا’’ہم برسوں سے جموں سے سری نگر تک ٹرین میں سفر کرنے کے منتظر تھے۔ اب ہمیں جموں سے کٹرا یا واپسی کے لیے سڑک کے ذریعے سفر کرنے کی ضرورت نہیں رہی‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ ریل سروس اتنی مقبول ہو جائے گی کہ انہیں خود سیٹ بک کروانے کے لیے سفارش کرنی پڑے گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’خوش قسمتی سے اب اس ٹرین کو آٹھ بوگیوں سے بڑھا کر۲۰بوگیوں تک کر دیا گیا ہے۔ پہلے جہاں تقریباً۵۰۰مسافر سفر کرتے تھے، اب۱۴۰۰؍افراد ایک وقت میں سفر کر سکتے ہیں، جو ہمارے لیے بہت بڑی بات ہے۔‘‘










