کوچز کی موجودہ تعداد ۸ ست بڑھا کر ۲۰ کر دی گئی ‘ جموں سے سرینگر پہلی ٹرین صبح۶:۲۰ منٹ اور سرینگر سے جموں صبح ۸ بجے روانہ ہو گی
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲۹؍اپریل
مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنوجمعرات ۳۰؍ اپریل کو جموں اور سری نگر کے درمیان۲۰کوچز پر مشتمل وندے بھارت ایکسپریس ٹرین کو جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے، جبکہ عام مسافروں کے لیے اس سروس کا آغاز۲مئی سے ہوگا۔
جموں اور سری نگر کے درمیان براہِ راست ٹرین سروس سے دونوں دارالحکومتوں کے درمیان سفر کا وقت کم ہوگا اور سیاحت کو فروغ ملے گا، اس کے علاوہ یہ ہر موسم میں دستیاب زمینی رابطے کا ذریعہ بھی فراہم کرے گی۔
یہ ٹرین، جو پہلے سری نگر سے شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا تک چلتی تھی، اب جموں توی تک چلے گی، یوں ملک کی جدید ترین ٹرین کو براہِ راست جموں و کشمیر کے سب سے بڑے شہر اور ریلوے مرکز سے جوڑ دیا جائے گا۔
افتتاح کے بعد مرکزی وزیر ادھم پور-سرینگر-بارہمولہ ریل لنک کے دو اہم انجینئرنگ شاہکاروں، انجی پل اور چناب پل، کا بھی معائنہ کریں گے۔
اگرچہ۳۰؍ اپریل کو افتتاحی سفر ہوگا، تاہم جموں توی-سری نگر وندے بھارت ایکسپریس۲مئی سے باقاعدہ سروس میں داخل ہوگی۔ اس روٹ پر دو جوڑی ٹرینیں چلائی جائیں گی، جو تقریباً۲۶۶کلومیٹر کا فاصلہ طے کریں گی۔
پہلی سروس (ٹرین نمبر۲۶۴۰۱) صبح۶:۲۰ منٹ پر جموں توی سے روانہ ہوگی اور شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا، ریاسی اوربانہال میں قیام کرتے ہوئے۱۱:۱۰بجے سری نگر پہنچے گی، یوں یہ سفر چار گھنٹے پچاس منٹ میں مکمل ہوگا۔ اس کی واپسی (ٹرین نمبر۲۶۴۰۲) دوپہر۲بجے سری نگر سے روانہ ہو کر شام۶:۵۰ منٹ پر جموں توی پہنچے گی۔ یہ سروس ہفتے میں چھ دن (منگل کے علاوہ) چلائی جائے گی۔
دوسری سروس (ٹرین نمبر۲۶۴۰۴) صبح۸ بجے سری نگر سے روانہ ہو کر بانہال ہال اور کٹرا میں قیام کرتے ہوئے۱۲:۴۰بجے جموں توی پہنچے گی۔ اس کی واپسی (ٹرین نمبر۲۶۴۰۳) دوپہر۱:۲۰منٹ پر جموں توی سے روانہ ہو کر شام۶ بجے سری نگر پہنچے گی۔ یہ سروس بھی ہفتے میں چھ دن (بدھ کے علاوہ) دستیاب ہوگی۔
ان دونوں سروسز کے ذریعے مسافروں کو صبح اور دوپہر دونوں اوقات میں سفر کے مواقع میسر ہوں گے، جس سے سفری منصوبہ بندی میں خاطر خواہ سہولت حاصل ہوگی۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے۶جون۲۰۲۵کو کٹرا-سری نگر وندے بھارت ایکسپریس کا افتتاح کیا تھا، جو ابتدا میں۸کوچز پر مشتمل تھی۔ تاہم مسافروں کی غیر معمولی طلب کے پیش نظر اب اس ٹرین کو۲۰ کوچز تک بڑھا دیا گیا ہے، جس سے نشستوں کی گنجائش دوگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے اور خاص طور پر سیاحتی اور یاتری سیزن میں ریزرویشن کے دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی۔
۲۸ ہزار کروڑ روپے کے اس ریلوے منصوبے پر، جو کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑتا ہے‘۱۹۹۰کی دہائی کے آخر میں کام شروع ہوا تھا، جبکہ وادی کشمیر میں پہلی ٹرین اکتوبر۲۰۰۸میں چلی تھی۔
اگرچہ۲۰۰۵ تک ٹرین سروس ادھم پور تک پہنچ گئی تھی، مگر پیر پنجال کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے کی وجہ سے وادی کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑنا۲۰۲۵تک ایک بڑا چیلنج بنا رہا۔
حکام کے مطابق’’یہ جدید۲۰کوچز پر مشتمل وندے بھارت ٹرین جموں توی (جے اے ٹی) سے اپنی پہلی مسافت کا آغاز کرے گی اور سری نگر تک کا سفر طے کرے گی، اس دوران وادی کے مشکل جغرافیائی علاقوں کو بھی جوڑے گی‘‘۔انہوں نے بتایا کہ اسی وقت سری نگر سے بھی ایک ٹرین جموں کی جانب روانہ ہوگی۔
اس اہم سروس کے آغاز سے قبل منگل کے روز جموں سے شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا تک وندے بھارت ٹرین کا ٹرائل رن کیا گیا۔
افتتاحی دن یہ ٹرین۲۶۷کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔ یہ سروس ہفتے میں چھ دن جموں سے سری نگر اور سری نگر سے جموں کے درمیان چلے گی، جبکہ منگل کے روز اس روٹ پر ٹرین دستیاب نہیں ہوگی۔
سینئر ڈویژنل کمرشل منیجر اچت سنگھل نے کہا’’مقامی ٹیکنالوجی سے تیار کی گئی یہ وندے بھارت ایکسپریس مسافروں کو عالمی معیار کا سفری تجربہ فراہم کرے گی‘‘۔
سنگھل نے مزید کہا’’اس میں ’کَوَچ‘حفاظتی نظام، جی پی ایس پر مبنی معلوماتی نظام اور آرام دہ گھومنے والی نشستیں شامل ہیں۔ یہ سروس نہ صرف سفر کا وقت کم کرے گی بلکہ مقامی معیشت اور سیاحت کو بھی نمایاں فروغ دے گی‘‘۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’یہ یقیناً سیاحت کے شعبے کو فروغ دے گی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ اب تک ٹرین کی گنجائش محدود تھی‘‘۔
عمرعبداللہ نے کہا’’اب تک کٹرا اور سرینگر کے درمیان صرف آٹھ کوچز والی ٹرین چل رہی تھی، لیکن اب۲۰ کوچز ہوں گی، جس کا مطلب ہے کہ زیادہ مسافر سفر کر سکیں گے۔‘‘(ایجنسیز)










