’ منشیات کے ناسور کے خلاف جنگ تمام تر تقسیموں سے بالاتر ہو کر اتحاد کا تقاضا کرتی ہے‘ ہمیں مشترکی کوششیں کرنی ہوں گی ‘
یقین دلاتا ہوں کہ ہماری سرزمین کی روح کو دبایا نہیں جا سکتا‘ یہ معاشرے کے جاگنے، لڑنے اور کامیاب ہونے کا وقت ہے:سنہا
ایجنسیز
جموں؍۲۷؍اپریل
منشیات کے استعمال کے خلاف متحدہ محاذ کی اپیل کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز نوجوانوں کے تحفظ اور ایسے مستقبل کی تعمیر کے لیے اجتماعی عزم پر زور دیا جہاں خاندان مضبوط رہیں اور جموں و کشمیر بھر میں امیدیں پروان چڑھیں۔
ادھم پور میں جاری ’نشہ مکت جموں کشمیر ابھیان‘ کے تحت ایک پدیاترا میں ہزاروں شہریوں کے ساتھ شرکت کرتے ہوئے سنہا نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اسے ’منشیات کے خلاف مشترکہ جنگ’ سمجھیں اور کہا کہ ’ہمیں مل کر یہ جنگ جیتنی ہے‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’منشیات کے خلاف جنگ میں اتحاد ہماری ڈھال اور عزم ہمارا ہتھیار ہوگا۔ آئیے ہم ایسے جموں و کشمیر کی تشکیل کا عہد کریں جہاں نوجوان آزاد مستقبل تراشیں، خاندان متحد رہیں، معاشرے مضبوط ہوں اور امیدیں دوبارہ روشن ہوں۔ ہم اپنے نوجوانوں اور اپنے مستقبل کے لیے ثابت قدم ہیں‘‘۔
سنہا نے کہا کہ منشیات کے ناسور کے خلاف جنگ تمام تر تقسیموں سے بالاتر ہو کر اتحاد کا تقاضا کرتی ہے۔ ان کاکہنا تھا’’بطور شہری، ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنے نوجوانوں کے تحفظ، خاندانوں کی مضبوطی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے یکجا رہیں گے‘‘۔
ایل جی نے کہا کہ جموں و کشمیر اب نئی طاقت کے ساتھ اس سماجی برائی کو مسترد کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ان کاکہنا تھا’’ہم اپنے نوجوانوں کو اس کی گرفت سے بچانے کا عزم کرتے ہیں۔ میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری سرزمین کی روح کو دبایا نہیں جا سکتا۔ یہ معاشرے کے جاگنے، لڑنے اور کامیاب ہونے کا وقت ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ کوئی ایک ادارہ تنہا اس جنگ کو نہیں جیت سکتا بلکہ یہ جذبہ ہر دل میں پیدا ہونا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا’’ادھم پور کے ہر گاؤں، بستی اور شہر کو مزاحمت کا قلعہ بننا ہوگا، ہر گھر کو چوکنا مورچہ بننا ہوگا۔ میں ہر شہری سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مقصد کے لیے ایک سپاہی کے طور پر سامنے آئے‘‘۔
سنہا نے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو ’نشہ مکت جموں کشمیر ابھیان‘ کی روح کو اپنانا ہوگا تاکہ تاریخ یہ گواہی دے کہ۲۷؍اپریل کو ادھم پور میں امید، اتحاد اور عزم کی شمع روشن ہوئی۔
ایل جی نے کہا ’’ہر خاندان کو آگے بڑھنا ہوگا تاکہ تاریخ ادھم پور کے متحدہ موقف، متحدہ جدوجہد اور مشترکہ کامیابی کو یاد رکھے، اور ایک ایسے کل کی بنیاد رکھی جائے جو منشیات سے پاک ہو اور قوم کی تعمیر کے لیے وقف ہو‘‘۔
سنہا نے کہا کہ آنے والے۸۳دنوں میں ہمیں معاشرے کی سوچ کو بدلنا ہوگا اور نشے کے عادی افراد کو مجرم نہیں بلکہ ایسے مریض سمجھنا ہوگا جو ہمدردی کے مستحق ہیں۔ بحالی کے عمل کے ذریعے ان کی عزت بحال کر کے انہیں دوبارہ معاشرے کا حصہ بنایا جائے۔ اس مہم میں اجتماعی توانائی کو بروئے کار لانا ہوگا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’آگاہی کو جوابدہی میں تبدیل کریں، عوامی شرکت کو مزید گہرا کریں، اور اس جدوجہد میں خواتین اور نوجوانوں کے اہم کردار کو اجاگر کریں‘‘۔
سنہا نے کہا کہ منشیات کے خلاف یہ جنگ مختلف مراحل میں لڑی جائے گی، جس میں ہر مرحلہ ہمت اور لگن کا تقاضا کرے گا۔
ایل جی نے کہا کہ آگاہی مہمات کے ذریعے خاندانوں کو منشیات کے نقصانات اور علامات سے باخبر کرنا ضروری ہے اور انہیں یاد دلانا چاہیے کہ یہ خطرہ دور نہیں بلکہ ہمارے درمیان موجود ہے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات کے خلاف آگاہی بائیک ریلی کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا اور ’نشہ مکت جموں کشمیر‘ مہم کے تحت منی اولمپکس کا آغاز بھی کیا۔ انہوں نے نشے سے نجات پانے والے افراد میں منظوری نامے بھی تقسیم کیے اور ’نشہ مکت آئیڈیاز چیمپئن شپ‘ کے فاتح کو اعزاز سے نوازا۔ (ایجنسیاں)










