ادارے کے سربراہ کا کسی بھی کالعدم تنظیم سے تعلق سے انکار
(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۲۷؍اپریل
جموںکشمیر کے ضلع شوپیاں میں ایک ایسے اسکول کو، جو مبینہ طور پر ایک کالعدم تنظیم سے وابستہ افراد کے زیر انتظام چلایا جا رہا تھا، غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت ’غیر قانونی ادارہ‘ قرار دے دیا گیا ہے۔
ڈویژنل کمشنر کشمیر، انشل گرگ نے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شوپیاں کی جانب سے پیش کردہ ڈوزیئر کی بنیاد پر دو صفحات پر مشتمل حکم جاری کیا، جس میں امام صاحب، شوپیاں میں قائم دارالعلوم جامعہ سراج العلوم میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی۔
۲۴؍اپریل کو جاری کیے گئے حکم کے مطابق، ’قابلِ اعتبار معلومات اور دستیاب شواہد‘ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ادارے کے جماعتِ اسلامی کے ساتھ مسلسل اور خفیہ روابط رہے ہیں، جس پر مرکز نے۲۰۱۹میں پابندی عائد کی تھی۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ادارے پر عملی طور پر ان افراد کا کنٹرول رہا ہے جو کالعدم تنظیم سے وابستہ ہیں، اور انہیں انتظامی و تعلیمی اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا۔
اس میں مزید کہا گیا کہ وقت کے ساتھ ادارے نے ایسا ماحول فروغ دیا جو انتہا پسندی کے لیے سازگار تھا، اور اس ادارے کے متعدد فارغ التحصیل افراد دہشت گرد اور قومی سلامتی کے خلاف اعمال میں ملوث پائے گئے۔
ڈوزیئر میں مالی شفافیت کے فقدان، ادارہ جاتی فنڈز کے مشکوک استعمال اور مالیاتی کنٹرول کے ڈھانچے میں تبدیلیوں جیسے امور بھی اٹھائے گئے، جس سے فنڈز کے غلط استعمال اور انحراف کے خدشات پیدا ہوئے۔
حکم میں کہا گیا’’انٹیلی جنس اطلاعات اور فیلڈ ویریفکیشن سے تقویت پانے والے مجموعی حقائق و حالات اس بات کے لیے کافی بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ معقول طور پر یہ یقین کیا جا سکے کہ یہ احاطہ ایک غیر قانونی تنظیم کے مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے‘‘۔
تاہم ادارے کے چیئرمین محمد شفیع لون نے جماعتِ اسلامی یا کسی بھی غیر قانونی تنظیم سے تعلق کی سختی سے تردید کی ہے۔
لون نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’ہم ایک قانون کا احترام کرنے والا ادارہ ہیں اور ہمارا کالعدم جماعتِ اسلامی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس وقت اسکول میں۸۱۴طلبہ زیر تعلیم ہیں اور یہ بورڈ آف اسکول ایجوکیشن اور کشمیر اسکول فیڈریشن سے وابستہ ہے‘‘۔
لون نے کہا کہ گزشتہ ماہ حکام کی جانب سے انہیں شوکاز نوٹس موصول ہوا تھا جس کا باقاعدہ جواب دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا’’اگر حکام کو اب بھی کوئی شبہ ہے تو وہ ایک کمیٹی تشکیل دے کر ہمارے ادارے کے خلاف الزامات کی تحقیقات کریں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوں تو حکومت جو بھی کارروائی کرے ہم اس کے ساتھ ہیں‘‘۔
دریں اثنا ایک اور پیش رفت میں ضلع مجسٹریٹ شوپیاں، ششیئر گپتا نے پیر کے روز ادارے میں کسی بھی غیر مجاز شخص کے داخلے پر پابندی کے احکامات جاری کیے۔
جاری حکم کے مطابق’’کوئی بھی شخص جو دارالعلوم جامعہ سراج العلوم، امام صاحب شوپیاں کا رہائشی نہیں ہے، وہ میری پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس احاطے میں داخل نہیں ہو سکتا‘‘۔
حکم کے مطابق یہ پابندی ان قریبی رشتہ داروں پر لاگو نہیں ہوگی جو اس نوٹیفکیشن کے اجرا کے وقت مذکورہ مقام کے رہائشی تھے۔










