ہفتہ, جولائی 18, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

 ایل جی کی۲۲مئی کی میٹنگ پر ردعمل:لداخ رہنماؤں کا وزیر داخلہ سے براہِ راست مذاکرات کا مطالبہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-04-28
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
 ایل جی کی۲۲مئی کی میٹنگ پر ردعمل:لداخ رہنماؤں کا وزیر داخلہ سے براہِ راست مذاکرات کا مطالبہ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

 

’ لداخ کا مسئلہ پانچ سے چھ سال سے کھنچتا چلا آ رہا ہے‘ اسے حل کرنے کی ضرورت‘وزیر داخلہ آ رہے ہیں ‘ ان سےملنا چاہتے ہیں ‘

(ویب ڈیسک )

متعلقہ

’جنتر منتر پر احتجاج کا پروگرام برقرار‘

’عمر کو صرف اپنی اقتدار کی واپسی کی فکر ہے‘عوامی حقوق کی نہیں‘

سرینگر ؍۲۷؍اپریل

            لیہہ ایپکس باڈی(ایل اے بی )نے آئندہ ہفتے یہاں دورے پر آنے والے مرکزی وزیرداخلہ امِت شاہ کے ساتھ براہِ راست’فیصلہ سازی کی سطح‘ کی بات چیت کا مطالبہ کیا، اور۲۲مئی کو طے شدہ ذیلی کمیٹی کے اجلاس کو خطے کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ’ناکافی‘ قرار دیا۔

            یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے اتوار کو اعلان کیا کہ وزارت داخلہ نے لداخ کے احتجاج کرنے والے گروپوں کے نمائندوں کے ساتھ سیاسی مکالمے کے لیے ذیلی کمیٹی کا اجلاس۲۲مئی کو بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ آخری اجلاس فروری کے اوائل میں منعقد ہوا تھا۔

            ایل اے بی‘ کرگل ڈیموکریٹک الائنس(کے ڈی اے)کے ساتھ،۲۰۲۱ سے مرکز کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے، جس میں اس کا چار نکاتی ایجنڈا شامل ہے، جس میں لداخ کے لیے ریاست کا درجہ اور آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت تحفظات شامل ہیں۔

            ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے یہاں صحافیوں سے کہا’’ایل اے بی نے آئندہ وزیرداخلہ کے دورۂ لداخ(۳۰؍اپریل) کے ساتھ ساتھ۲۲ مئی کی ذیلی کمیٹی میٹنگ کے اعلان پر تفصیل سے غور کیا… لداخ کا مسئلہ گزشتہ پانچ سے چھ سال سے کھنچتا چلا آ رہا ہے اور اسے حل کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

            وانگچک، جن کے ساتھ ایل اے بی کے شریک چیئرمین چیرنگ درجے اور دیگر اہم اراکین موجود تھے، نے کہا کہ اس دورے کو’بامعنی اور تعمیری مکالمے‘ کی طرف ایک قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

            ان کا مزید کہنا تھا’’یہ اچھی طرح سمجھا جاتا ہے کہ ذیلی کمیٹی کی سطح پر‘یعنی سیکرٹریوں کی سطح پر‘ہونے والی بات چیت میں فیصلہ سازی کے اختیارات شامل نہیں ہوتے۔ اس لیے یہ تشویش ہے کہ اگر یہ میٹنگ۲۲مئی کو ہوتی ہے، جو کہ فروری میں آخری میٹنگ کے چار ماہ بعد ہے، اور پھر بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوتا، تو مزید چار ماہ گزر سکتے ہیں، اور پورا سال بغیر کسی حل کے گزر سکتا ہے‘‘۔

            وانگچک کاکہنا تھا’’اسی لیے ہمارے تمام اراکین نے تجویز دی ہے کہ چونکہ وزیرداخلہ خود لداخ آ رہے ہیں، اس لیے انہیں ایل اے بی اور کے ڈی اے کے ساتھ ایک میٹنگ کی صدارت کرنی چاہیے‘‘۔

            وانگچک نے کہا کہ لداخ میں اس طرح کی میٹنگ منعقد کرنا نہ صرف ممکن بلکہ بامعنی بھی ہوگا۔انہوں نے کہا ’’درحقیقت، ہمارے کچھ اراکین جنہوں نے دہلی میں پہلے ہونے والی میٹنگز میں شرکت کی تھی، انہوں نے بھی بتایا کہ اپنی ملاقاتوں کے دوران وزیرداخلہ نے لداخ کی قیادت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ خود ایسی میٹنگز کی صدارت کریں گے اور حتیٰ کہ انہیں لداخ میں منعقد کرنے پر بھی غور کریں گے‘‘۔

            اس تناظر میں، انہوں نے کہا کہ وزیرداخلہ کا یہ دورہ اس کے لیے بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

            ایل اے بی کے رہنما اشرف برچا نے کہا کہ ان کی رائے ہے کہ ذیلی کمیٹی کی سطح پر بحث کے لیے کوئی بڑا مسئلہ باقی نہیں رہا، کیونکہ تمام معاملات پہلے ہی تفصیل سے زیر بحث آ چکے ہیں۔بر چا نے کہا’’اب فیصلوں کا وقت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ وزیرداخلہ لداخ آ رہے ہیں—جو ہم سب کے لیے خوشی کی بات ہے—اس موقع کو استعمال کیا جانا چاہیے۔ اگر وہ یہاں لداخ کی قیادت کے ساتھ ہائی پاورڈ کمیٹی کے فریم ورک کے تحت ایک مشترکہ میٹنگ کریں، تو یہ بہت فائدہ مند ہوگا۔ اس سے یہاں کے لوگوں کے اعتماد کو بھی تقویت ملے گی‘‘۔

            وانگچک نے فوری اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔’’یہ صرف میرے خلاف این ایس اے  ختم کرنے کی بات نہیں ہے… بلکہ گزشتہ ستمبر میں ہونے والی غلطیوں کو دور کرنے اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے کی بھی ضرورت ہے‘‘۔

            وانگچک، جنہیں۲۶ ستمبر کو احتجاج کے دوران تشدد کے سلسلے میں قومی سلامتی ایکٹ  کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، کو۱۴ مارچ کو جودھپور سینٹرل جیل سے اس وقت رہا کیا گیا جب مرکزی حکومت نے ان کی نظر بندی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

            ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا’’مقدمات واپس لینا اور معاوضے کا اعلان کرنا وزیرداخلہ کے دورے سے پہلے عوام میں اعتماد پیدا کرنے میں مدد دے گا‘‘۔

            درجے نے کہا کہ ایپکس باڈی اور کے ڈی اے  ایک ہی مؤقف پر ہیں اور ’’ہم ایک بار پھر کوشش کریں گے کہ ہم متحد آواز میں بات کریں اور مختلف خیالات رکھنے والوں کو شامل کرنے سے گریز کریں‘‘۔

            انہوں نے کہا ’’ہماری واضح پوزیشن یہ ہے کہ ذیلی کمیٹی کا اجلاس مکمل طور پر بے معنی ہے۔ اگر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا اور بات کرنے کے لیے کچھ نیا باقی نہیں ہے، تو پھر اس کا کیا فائدہ؟‘‘ان کا مزید کہنا تھا’’ہمارے مطالبات پہلے ہی بالکل واضح ہیں—چار نکاتی ایجنڈا۔ کم از کم حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ کیا دینے کے لیے تیار ہے‘‘۔

            مثال کے طور پر، انہوں نے کہا کہ اگر حکومت لداخ کو ریاست کا درجہ دینے یا اسے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی، تو اسے صاف طور پر یہ بات کہنی چاہیے۔

            انہو نے کہا ’’اب تک اس نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ وہ یہ نہیں دے گی۔ اگر یہ نہیں، تو پھر متبادل کیا ہے؟ حکومت کو کم از کم یہ تو واضح کرنا چاہیے‘‘۔

            ایک سوال کے جواب میں، انہوں نے کہا کہ ایل اے بی کو بھی وزیرداخلہ کے دورے اور۲۲مئی کی مجوزہ بات چیت کے بارے میں لیفٹیننٹ گورنر کے ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔

            مرکزی وزیرداخلہ امِت شاہ۳۰؍اپریل کو دو روزہ دورے پر لیہہ پہنچیں گے۔ ایل جی سکسینہ نے کہا کہ وزیرداخلہ یکم مئی کو بدھ پورنیما کے موقع پر بھگوان بدھ کے مقدس تبرکات پر حاضری دیں گے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

قاضی گنڈ سڑک حادثے میں  تین طالبات زخمی، ڈرائیور گرفتار

Next Post

وندے بھارت توسیع :’ٹرینوں کی تعداد اور گنجائش میں اضافہ چاہتے ہیں‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’جنتر منتر پر احتجاج کا پروگرام برقرار‘
اہم ترین

’جنتر منتر پر احتجاج کا پروگرام برقرار‘

2026-07-16
’عمر کو صرف اپنی اقتدار کی واپسی کی فکر ہے‘عوامی حقوق کی نہیں‘
اہم ترین

’عمر کو صرف اپنی اقتدار کی واپسی کی فکر ہے‘عوامی حقوق کی نہیں‘

2026-07-16
 متنازعہ کتاب تنازع: جموں یونیورسٹی نے بلیک لسٹ مصنفین اور ناشرین پر پابندی عائد کر دی
اہم ترین

 متنازعہ کتاب تنازع: جموں یونیورسٹی نے بلیک لسٹ مصنفین اور ناشرین پر پابندی عائد کر دی

2026-07-16
 سنہا کابھگوتی نگر یاتری نواس میں یاتریوں کی سہولیات کا جائزہ
اہم ترین

 سنہا کابھگوتی نگر یاتری نواس میں یاتریوں کی سہولیات کا جائزہ

2026-07-16
ہمالیہ میں برف باری سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، نئی تحقیق کا انکشاف
اہم ترین

ہمالیہ میں برف باری سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، نئی تحقیق کا انکشاف

2026-07-16
فنڈنگ بحران :پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کی یونیورسٹی بند‘۸ہزارطلبہ متاثر
اہم ترین

پی او کے نہ ’آزاد‘ ہے، نہ ’متنازع‘، بلکہ ’زیرِ قبضہ‘ علاقہ ہے:مقامی رہنما

2026-07-16
جموں و کشمیر میں بڑا ردوبدل‘۸۲پولیس افسران تبدیل
اہم ترین

  پربھات کا کارگو کمپلیکس سری نگر  کا دورہ، سکیورٹی تیاریوں کا جائزہ

2026-07-16
ایل اور سی پر سکوت:کیرن علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں شروع ہونے لگیں
اہم ترین

 سانبہ میں بین الاقوامی سرحد  کے قریب کھیت میں مشتبہ  سوراخ ملنے پر سرچ آپریشن

2026-07-16
Next Post
وندے بھارت توسیع :’ٹرینوں کی تعداد اور گنجائش میں اضافہ چاہتے ہیں‘

وندے بھارت توسیع :’ٹرینوں کی تعداد اور گنجائش میں اضافہ چاہتے ہیں‘

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.