(ویب ڈیسک )
لہیہ/۲۷؍ اپریل
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ‘ونئے کمار سکسینہ نے پیر کے روز یونین ٹیریٹری میں پانچ نئے اضلاع کے قیام کی منظوری دے دی، جس سے خطے کے عوام کی دیرینہ اور طویل عرصے سے زیر التوا مانگ پوری ہو گئی۔ انہوں نے اس فیصلے کو لداخ کے لیے ایک ’تاریخی دن‘ قرار دیا۔
ایل جی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا’’میں نے لداخ میں پانچ نئے اضلاع کے قیام کے نوٹیفکیشن کی منظوری دے دی ہے، جس سے لداخ کے عوام کی خواہشات اور دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے‘‘۔
سکسینہ نے کہا کہ پانچ نئے اضلاع ‘نوبرا، شام، چانگ تھانگ، زانسکار اور دراس کے قیام کے ساتھ ہی لداخ میں اضلاع کی کل تعداد اب سات ہو گئی ہے۔
اس سے قبل لداخ میں صرف دو اضلاع، لہیہ اور کرگل، موجود تھے۔ رقبے کے لحاظ سے یہ سب سے بڑا یونین ٹیریٹری ہے، مگر آبادی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر کم آبادی والا خطہ ہے۔۲۰۱۱کی مردم شماری کے مطابق، اس کا رقبہ۸۶ہزار۹۰۴مربع کلومیٹر ہے اور آبادی۲لاکھ ۷۴ہزار ہے، جبکہ اس کی سرحدیں چین اور پاکستان سے ملتی ہیں۔
ایل جی نے کہا کہ یہ پیش رفت وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک ترقی یافتہ اور خوشحال لداخ کے وژن کے مطابق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ’انقلابی فیصلہ، جسے وزارت داخلہ نے اگست۲۰۲۴ میں وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں منظوری دی تھی، نچلی سطح پر حکمرانی کو مضبوط کرے گا، انتظامیہ کو غیر مرکزیت دے گا اور عوام تک سرکاری خدمات کی تیز تر فراہمی کو یقینی بنائے گا، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والوں کے لیے‘‘۔
سیکسینہ نے مزید کہا کہ نئے اضلاع کا قیام نہ صرف حکمرانی کو عوام کے قریب لائے گا بلکہ ترقی، روزگار اور کاروباری مواقع کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔
ایل جی نے اس بات پر زور دیا کہ ان علاقوں کے عوام کی خواہشات پوری ہو گئی ہیں اور کہا’’میں اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ لداخ کا ہر شہری اس تاریخی فیصلے سے مستفید ہوگا، کیونکہ ہم ایک روشن، مضبوط اور خوشحال مستقبل کی جانب بڑھ رہے ہیں‘‘۔
مرکز نے۵؍اگست۲۰۱۹کو سابقہ ریاست جموں و کشمیر کو دو یونین ٹیریٹریز جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا تھا، اسی دن آئین کے آرٹیکل۳۷۰ کو بھی منسوخ کیا گیا تھا جس کے تحت سابقہ ریاست کو خصوصی درجہ حاصل تھا۔
یونین ٹیریٹری قرار دیے جانے کے بعد لداخ براہ راست مرکزی وزارت داخلہ کے انتظامی کنٹرول میں آ گیا تھا۔










