نشہ مکت مہم کے پہلے ۲۱دنوں میں کئی منشیات اسمگلر گرفتار، کروڑوں مالیت کی منشیات ضبط: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
’ایک دہائی تک جموں و کشمیر میں اس مسئلے پر خاموشی رہی، اور یہ عوامی تحریک اسی خاموشی کو توڑنے کے لیے شروع کی گئی ہے‘
ایجنسیز
جموں؍۲۴ ؍اپریل
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کے روز ضلع ریاسی میں ’نشہ سے پاک جموں و کشمیر مہم‘ کا باضابطہ آغاز کیا اور حکام سے اسکولوں، کالجوں اور دیگر حساس علاقوں کے اطراف سکیورٹی جانچ سخت کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ایل جی نے کہا کہ منشیات سمگلروں اور دہشت گردوں میں گٹھ جوڑ ہے اور ان دونوں کو اس جرم میں شرکت دار سمجھنا چاہئے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی کے درمیان گٹھ جوڑ پر بھی زور دیا اور پولیس و دیگر اداروں کو ہدایت دی کہ دونوں کو ایک مشترکہ خطرہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسمگلروں کے ہر راستے پر نظر رکھی جائے‘مالی نیٹ ورکس کو توڑا جائے اور ان کے اثاثے ضبط کیے جائیں تاکہ ان کے پورے نیٹ ورک کو ختم کیا جا سکے۔
سنہا نے واضح کیا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو منشیات کے ذریعے تباہ کرنے والوں کے خلاف قانون کے تحت سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔
ایل جی نے کہا کہ ایک دہائی سے زائد عرصے تک جموں و کشمیر میں منشیات کے مسئلے پر خاموشی رہی، اور یہ عوامی تحریک اسی خاموشی کو توڑنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات معاشرے کے دل پر ایک زخم ہے اور اسے بھرنے کے لیے اجتماعی طاقت کی ضرورت ہے۔
متحدہ ردعمل پر زور دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منشیات کا استعمال معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے، اس لیے کمیونٹی، اداروں اور افراد کو اس کے خلاف متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔
سنہا نے مہم کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ۱۲دنوں کے دوران پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ایک مضبوط اجتماعی قوت ابھر کر سامنے آئی ہے، اور لوگوں نے جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کے لیے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔
ایل جی نے کہا’’میں یہ بات بالکل واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو زہر آلود کرنے جیسے سنگین جرم میں ملوث ہیں، انہیں قانون کے تحت سخت ترین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘۔
سنہا نے کہا کہ منشیات فروش اور دہشت گرد اکثر ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور انہیں جرائم میں شراکت دار سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا’’ہمارا ردعمل فیصلہ کن، جامع اور غیر متزلزل ہونا چاہیے۔ منشیات اسمگلروں کے استعمال کیے جانے والے ہر راستے کی نگرانی کی جائے، ہر مالی سلسلے کو توڑا جائے، اور ہر اثاثہ ضبط کیا جائے جب تک کہ ان کے نیٹ ورکس مکمل طور پر ختم نہ ہو جائیں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے خطے میں منشیات کے دیرینہ مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مہم کا مقصد اس مسئلے کے گرد خاموشی کو توڑنا اور معاشرے کو اس ناسور کے خلاف متحرک کرنا ہے۔
سنہا نے کہا’’منشیات ہمارے معاشرے کے دل پر ایک زخم ہیں۔ اس زخم کو بھرنے کے لیے ہمیں ایک عوامی تحریک کی ضرورت ہے جو معاشرے کی مکمل طاقت کو متحرک کر کے اس برائی کو جڑ سے ختم کرے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے این جی اوز، سماجی کارکنوں، روحانی رہنماؤں اور اساتذہ سے بھی اپیل کی کہ وہ شہری اور دیہی علاقوں میں اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔
ایل جی نے کہا’’سماجی تنظیمیں، روحانی رہنما اور اساتذہ اس مشن کے اولین محافظ ہیں۔ ان کی قیادت سے امید کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے اور معاشرے کو نئی سمت دی جا سکتی ہے۔ حکومت اور عوام دونوں کی مکمل طاقت ان کے ساتھ کھڑی ہے‘‘۔
سنہا نے یہ بھی اعلان کیا کہ۱۱؍اپریل کو مہم کے آغاز کے بعد سے جموں ڈویژن میں۱۹۴۷خواتین کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، جن کا مقصد منشیات کے خلاف جدوجہد اور کمیونٹی سطح پر نگرانی کو مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے کہا’’جموں ڈویژن کے اضلاع میں۱۱؍ اپریل سے اب تک۱۹۴۷ خواتین کمیٹیاں قائم کی جا چکی ہیں، اور ماؤں اور بہنوں کے تعاون سے معاشرے میں منشیات کے اس ناسور کا خاتمہ ممکن ہوگا‘‘۔
ایل جی نے مزید کہا کہ خواتین، خصوصاً ماؤں اور بہنوں کی فعال شرکت اس لعنت کے خاتمے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
سنہا نے کہا’’ہمیں ایک تاریخی تحریک قائم کرنی ہوگی، جو گھروں، اسکولوں، محلوں اور کمیونٹیز سے اٹھے؛ ایک ایسی تحریک جو شہروں اور دیہات میں کھلے اور ایماندارانہ مکالمے سے شروع ہو۔ مائیں اور بہنیں ہمارے معاشرے کی اخلاقی بنیاد ہیں اور ان کی مدد سے ہم یہ جنگ جیت سکتے ہیں۔‘‘
سنہا نے کہا کہ’نشہ مکت ابھیان‘ کے تحت نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور صرف۱۲ دنوں میں کئی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں جبکہ کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ۱۲ دنوں سے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں منشیات کے خلاف ایک اجتماعی تحریک ابھری ہے اور لوگ اس خطے کو منشیات سے پاک بنانے کے عزم پر قائم ہیں۔
ایل جی کاکہنا تھا کہ۱۱سے۲۲؍ اپریل کے درمیان جموں ڈویژن میں بڑی تعداد میں مقدمات درج کیے گئے اور کئی منشیات اسمگلروں کو گرفتار کیا گیا۔ تقریباً۳ کروڑ روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئی، جبکہ تقریباًایک کروڑ روپے کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں بھی ضبط کی گئیں۔
سنہا نے مزید کہا کہ دو درجن سے زائد منشیات اسمگلروں کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور انہیں جلد گرفتار کیا جائے گا، جبکہ ہزاروں منشیات فروش زیر نگرانی ہیں۔ اسکولوں، کالجوں اور حساس علاقوں کے اطراف سکیورٹی چیکنگ بڑھا دی گئی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے این جی اوز، سماجی کارکنوں، روحانی رہنماؤں اور اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں فعال کردار ادا کریں، اور انہیں اس مشن کے’فرنٹ لائن محافظ‘ قرار دیا۔










