’بحالی کو کسی لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے سے مشروط نہیں کیا جا سکتا‘
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۲۴؍ اپریل
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بی جے پی پر الزام عائد کیا ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ دینے میں تاخیر دراصل عوام کو ’سزا‘ دینے کے مترادف ہے کیونکہ انہوں نے جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کو ووٹ دیا۔
یہ تازہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے جمعہ کے روز عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’ناکارہ کارکردگی، بدعنوانی اور غلط ترجیحات‘ کا حامل قرار دیا اور کہا کہ حکومت’میراتھن، اسکیئنگ اور فائیو اسٹار ڈنرز‘ میں مصروف ہے۔
شرما نے یہ بھی کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی کا مطالبہ کسی ایک فرد یا سیاسی خاندان سے منسلک نہیں ہونا چاہیے، بظاہر یہ اشارہ عبداللہ خاندان کی طرف تھا۔ انہوں نے کہا’’ریاستی درجہ اپنے وقت پر بحال ہوگا، لیکن اسے کسی ایک لیڈر کے وزیر اعلیٰ بننے سے مشروط نہیں کیا جا سکتا‘‘۔
ہفتہ کے روز عمر عبداللہ نے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے بیانات دراصل راجوری ضلع کے نوشہرہ سرحدی علاقے میں حالیہ بڑے عوامی اجتماع کے بعد گھبراہٹ کا نتیجہ ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ’’نوشہرہ میں چند روز قبل ہونے والے شاندار اجتماع سے گھبرا کر بی جے پی نے آخرکار کچھ سچ بول ہی دیا‘جموں و کشمیر کے عوام کو سزا دی جا رہی ہے اور انہیں ریاستی درجہ سے محروم رکھا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے نیشنل کانفرنس کو ووٹ دیا۔ ان کے بلند بانگ دعووں کا یہی حال ہے‘‘۔
عمر عبداللہ نے سنیل شرما پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی ان کی غیر موجودگی میں زیادہ ’پُرسکون اور نتیجہ خیز‘ رہی۔ یہ اشارہ بی جے پی لیڈر کے حالیہ آسام دورے کی جانب تھا۔
ادھر جمعہ کی شام نیشنل کانفرنس کے ترجمان اور رکن اسمبلی تنویر صادق نے بھی سنیل شرما پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے والے تھے‘‘۔
دوسری جانب، سنیل شرما نے الزام لگایا کہ عمر عبداللہ حکومت کی جانب سے عوام سے کیے گئے وعدے—جیسے مفت ایل پی جی سلنڈر‘۲۰۰یونٹ بجلی اور نوجوانوں کو روزگار—ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔ انہوں نے حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکمرانی پس منظر میں چلی گئی ہے جبکہ لیڈران صرف تقریبات اور نمایاں سرگرمیوں میں نظر آتے ہیں۔
بی جے پی لیڈر نے مزید کہا کہ انتظامی نظام میں بگاڑ پیدا ہو چکا ہے، عوامی رسائی مؤثر نہیں، محکموں کا جائزہ نہیں لیا جا رہا، اور وزراء میدان میں نظر نہیں آتے۔ انہوں نے بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ عام شہریوں کو سرکاری دفاتر میں معمول کے کاموں کے لیے رشوت دینی پڑ رہی ہے۔ (ایجنسیاں)










