ایجنسیز
نئی دہلی؍۲۴؍اپریل
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کے روز جیل میں بند رکنِ پارلیمنٹ انجینئر رشید کی اپنے علیل والد سے ملاقات کے لیے دائر عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔
خصوصی جج پرشانت شرما نے یہ درخواست خارج کر دی، جس میں عبوری ضمانت کی استدعا کی گئی تھی۔
انجینئر رشید نے عدالت سے کہا تھا کہ ان کے والد شدید علیل ہیں، اسپتال میں داخل ہیں اور وینٹی لیٹر پر ہیں، اس لیے انہیں ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ حراستی پیرول (کسٹڈی پیرول) کے تحت بھی اپنے والد سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
حراستی پیرول کے تحت قیدی کو مسلح پولیس اہلکاروں کی نگرانی میں ملاقات کے لیے لے جایا جاتا ہے۔
بارہمولہ سے رکنِ پارلیمنٹ، جنہوں نے۲۰۲۴ کے لوک سبھا انتخابات میں عمر عبداللہ کو شکست دی تھی، ایک دہشت گردی کی مالی معاونت کے کیس میں زیرِ سماعت ہیں، جس میں ان پر جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کی مالی مدد کرنے کے الزامات ہیں۔
انہیں۲۰۱۹سے دہلی کی تہاڑ جیل میں رکھا گیا ہے، جہاں انہیں این آئی اے نے۲۰۱۷کے دہشت گردی فنڈنگ کیس میں گرفتار کیا تھا۔










