سرینگر؍۲۴؍اپریل
جموں کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں امن عامہ میں خلل ڈالنے کے الزام میں جمعہ کے روز چھ افراد کے خلاف سخت پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت کارروائی کی گئی۔
پولیس ترجمان کے مطابق سوپور پولیس نے ان افراد کو حالیہ لاء اینڈ آرڈر کی خرابیوں اور سوپور علاقے میں طلبہ کے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کے واقعات میں ملوث ہونے پر پی ایس اے کے تحت بک کیا ہے۔
ترجمان نے ان افراد کی شناخت عمر اکبر حجام ساکن سیلو، سلمان احمد شالا ساکن شالپورہ سوپور، الطاف احمد شیخ ساکن پنزی پورہ ترزو، مبشر احمد گلکار ساکن نصیر آباد، مزمل مشتاق چنگا ساکن آرمپورا، اور مجید فردوس ڈار ساکن چنکی پورہ سوپور کے طور پر کی۔
ترجمان نے بتایا کہ تمام افراد کو مجاز اتھارٹی (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ) سے باضابطہ حراستی وارنٹ حاصل کرنے کے بعد پی ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور انہیں ضلع جیل بھدرواہ میں بند کیا گیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ افراد حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران بدامنی کو ہوا دینے، توڑ پھوڑ کرنے اور امن و امان کو متاثر کرنے کی کوششوں میں سرگرم تھے۔
ان کی سرگرمیاں امن عامہ اور عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ تھیں، ترجمان نے مزید کہا۔
پولیس کے مطابق علاقے میں امن اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ان واقعات میں ملوث مزید افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف بھی اسی نوعیت کی قانونی کارروائی، بشمول پی ایس اے کے تحت حراست، عمل میں لائی جائے گی۔
یاد رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سوپور میں اس وقت احتجاج پھوٹ پڑا تھا جب ایک طالبہ نے ایک سینئر لیکچرر پر جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا، جسے بعد میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کر دیا گیا۔ (ایجنسیاں)










