۲۰۴۷کا ہدف محض تاریخ نہیں بلکہ قومی عزم‘ایسے بھارت کی بنیاد رکھ رہی ہے جس کے مستقبل کی باگ ڈور نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے
جموں؍۲۱؍اپریل
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے منگل کے روز اس بات پر زور دیا کہ ایسے بھارت کی تعمیر کی جائے جس کا خواب ہمارے مجاہدینِ آزادی نے دیکھا تھا اور جس میں ہر طبقہ اور ہر فرد ترقی کے دھارے میں شامل ہو۔
سنہا نے کہا’’بھارت ایک ترقی یافتہ قوم بننے کی سمت میں مضبوطی سے آگے بڑھ رہا ہے۔۲۰۴۷کا ہدف محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک قومی عزم ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر یہ بات اتر پردیش کے غازی پور میں معروف سماجی کارکن اور مہامندلیشور شری بال کرشن یتی انٹر کالج کے بانی، شری وجے بہادر سنگھ کے مجسمے کی نقاب کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے۔
شری وجے بہادر سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ انہوں نے بغیر کسی ذاتی توقع کے اپنے فرائض انجام دیے، شہرت کی خواہش کے بغیر خدمت کی اور اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے تعمیر کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں شری وجے بہادر سنگھ جی کے نظریات کو معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانا چاہیے، جو ایک حقیقی کرم یوگی تھے۔
سنہا نے کہا’’مجھے خاص طور پر اس بات پر فخر ہے کہ شری وجے بہادر سنگھ جی نے یہ نہیں پوچھا کہ بندرون ان کے لیے کیا کر سکتا ہے، بلکہ یہ دکھایا کہ بندرون اور جکھنیا علاقہ اپنے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ یہ انٹر کالج، جو عوامی تحریک سے وجود میں آیا، ان کے انقلابی کام کا ایک چھوٹا سا مظہر ہے۔
شری وجے بہادر سنگھ جی نے محض ایک کالج قائم نہیں کیا بلکہ مستقبل کے لیے ایک عہد کیا۔۱۹۷۴میں جب انہوں نے اس ادارے کی بنیاد رکھی تو نہ کوئی بڑی مالی مدد تھی اور نہ کامیابی کی کوئی ضمانت۔ ان کے پاس صرف یہ غیر متزلزل یقین تھا کہ تعلیم وہ طاقت ہے جو معاشرے کو بدل سکتی ہے‘‘۔ لیفٹیننٹ گورنر نے کہا۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے خدمت، قربانی اور قوم سازی کے موضوعات پر بھی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ترقی کو محض اعداد و شمار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ہر گھر تک پہنچایا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ کروڑوں خاندان جن کے پاس کبھی اپنا گھر نہیں تھا، اب انہیں رہائش میسر ہے، جس سے انہیں معاشرے میں وقار اور تحفظ ملا ہے۔انہوں نے کہا’’سڑکیں ہر گاؤں تک پہنچ چکی ہیں، ہوائی اڈوں کی تعداد دوگنی ہو چکی ہے، اور ڈیجیٹل انقلاب نے معاشرے کے ہر طبقے کو جوڑ دیا ہے۔ آج محروم طبقات کے پاس بینک اکاؤنٹس ہیں، ان کی شناخت ہے، اور وہ مالی لین دین کے لیے اسمارٹ موبائل فون استعمال کر رہے ہیں، اور میری نظر میں یہ محض تکنیکی ترقی نہیں بلکہ سماجی بااختیاری ہے‘‘۔
سنہا نے مزید کہا کہ ملک کے دور دراز علاقوں میں نئے اسکول، نئی یونیورسٹیاں اور نئی تعلیمی پالیسی ایک ایسے بھارت کی بنیاد رکھ رہی ہیں جہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں مستقبل کی باگ ڈور ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کے لیے دستیاب سہولیات ہماری تاریخ میں بے مثال ہیں، اور تعلیم کا مقصد اب صرف امتحان پاس کرنا نہیں بلکہ باشعور اور ذمہ دار شہری پیدا کرنا ہے۔
(ڈی آئی پی آر )










