بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

ریاستی درجے کی بحالی پر بی جے پی کے رویے پر وزیر اعلیٰ خفا

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-04-21
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
عمرعبداللہ کا ایران کے خلاف ’غیر منصفانہ جنگ‘کی منطق پر سوال

JAMMU,6 APR (UNI)- Jammu and Kashmir Chief minister Omar Abdullah briefing Media during a program at convention centre in Jammu on Monday. UNI PHOTO -D74U

FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

جموں؍۲۰؍اپریل:

                وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت پر جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کے اپنے وعدے کو پورا نہ کرنے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اس معاملے پر اس کی طرف سے ’کوئی واضح جواب‘ نہیں ہے۔

                وزیراعلیٰ نے مقننہ میں خواتین کے ریزرویشن کے نفاذ کے معاملے پر بھی بی جے پی کو نشانہ بنایا۔

متعلقہ

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

                عمرعبداللہ نے راجوری ضلع کے نوشہرہ سرحدی علاقے میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’جموں و کشمیر میں ریاستی درجہ بحال کرنے کے بارے میں کوئی واضح جواب نہیں ہے۔ وہ (بی جے پی) کہتے ہیں ’صحیح وقت پر‘۔ یہ ’صحیح وقت‘کیا معنی رکھتا ہے؟ میں ان سے بار بار پوچھتا ہوں ہمیں صاف صاف بتائیں۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ یہ آپ کا وعدہ ہے، اگر آپ نے اپنی زبان دی ہے، تو کیا آپ کی زبان کی کوئی قدر نہیں؟ کیا ہمیں آپ کے وعدوں کو اتنا ہلکا سمجھنا چاہیے کہ آپ انہیں ہر جگہ دہراتے رہیں ‘سپریم کورٹ میں، پارلیمنٹ میں، جلسوں میں، انتخابات میں اور پھر پیچھے ہٹ جائیں؟‘‘

                وزیراعلیٰ نے مرکز سے اپیل کی کہ وہ ریاستی درجہ بحال کرنے کے لیے ایک واضح روڈ میپ پیش کرے۔

                عمرعبداللہ نے کہا’’ہمیں یہ بتائیں کہ یہ ’صحیح وقت‘ کیا ہے تاکہ ہم اس کے مطابق کام کر سکیں۔ جس طرح ہم بچوں کے لیے امتحان مقرر کرتے ہیں ‘ ہم انہیں بتاتے ہیں کہ پاس ہونے کے لیے کتنے نمبر درکار ہیں، فرسٹ ڈویژن یا امتیازی کامیابی کے لیے کیا معیار ہے۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کیا حاصل کرنا ہے۔ اسی طرح ہمیں بھی بتائیں کہ کون سی شرائط پوری کرنی ہوں گی تاکہ ہم اس منزل تک پہنچ سکیں‘‘۔

                یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ان کی حکومت اپنے وعدے پورے کر رہی ہے، عمرعبداللہ نے کہا’’ہم اپنے وعدے پورے کر رہے ہیں۔ آپ نے عوام سے جو وعدہ کیا ‘وہ کہاں ہے؟ ہمیں ریاستی درجہ واپس دیں، کیونکہ لوگوں نے اسی امید کے ساتھ ووٹ دیا تھا ‘چاہے انہوں نے کانگریس، نیشنل کانفرنس، بی جے پی یا کسی بھی پارٹی کو ووٹ دیا ہو‘‘۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے اس امید کے ساتھ ووٹ دیا کہ جموں و کشمیر کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافی کا ازالہ کیا جائے گا۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہمیں ایک ریاست سے یونین ٹیریٹری میں تبدیل کرنا ایک سزا کی طرح محسوس ہوا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا’’میں ان (بی جے پی) سے پوچھنا چاہتا ہوں جن کے خلاف ہم نے الیکشن لڑا، کیا انہوں نے عوام سے وعدے نہیں کیے تھے؟ ان کے وعدوں کا کیا ہوا؟‘‘

                عمرعبداللہ نے کہا’’ہاں، ان کی حکومت جموں و کشمیر میں نہیں بنی، لیکن مرکزی حکومت تو ان کی ہے۔ ان کا وعدہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا تھا ’’انتخابات میں حصہ لیں، اور اس کے بعد ہم جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس دیں گے‘‘۔

                 وزیراعلیٰ نے کہا کہ بی جے پی نے تین مرحلوں پر مشتمل ایک عمل بیان کیا تھا۔’’انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ اگر آپ کسی اور پارٹی کو اقتدار دیں گے تو ہم آپ کو سزا دیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ تین مراحل میں ہوگا: پہلے حد بندی، پھر انتخابات، پھر ریاستی درجہ‘‘۔

                عمرعبداللہ نے کہا’’حد بندی ہوئی جیسے بھی ہوئی، لیکن ہوئی۔ پھر انتخابات ہوئے ایک نہیں بلکہ ایک ہی سال۲۰۲۴ میں دو انتخابات ہوئے۔ پہلے پارلیمانی انتخابات، پھر اسمبلی انتخابات۔ انہوں نے کہا تھا کہ جیسے ہی انتخابات ختم ہوں گے، ریاستی درجہ بحال کر دیا جائے گا۔ آج ڈیڑھ سال گزر چکا ہے؛ ہم پوچھ رہے ہیں: وہ وعدہ کہاں ہے؟‘‘

                وزیراعلیٰ نے خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر بھی بی جے پی کو نشانہ بنایا۔

                عمرعبداللہ نے کہا’’ہم نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ ہم اس بل کی حمایت کرتے ہیں، لیکن مردم شماری کے بغیر حد بندی نہیں کی جا سکتی۔ آخر ایسی کیا مجبوری تھی؟ اس بل کے پیچھے کیا چھپا ہوا تھا؟‘‘ انہوں نے حد بندی کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا الزام لگایا۔

                جموں و کشمیر میں حد بندی کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے عبداللہ نے کہا’’کیا ہم بھول گئے ہیں کہ یہاں حد بندی کیسے ہوئی؟ سات نشستیں بنائی گئیں ان میں سے چھ بی جے پی نے حاصل کر لیں۔ واضح ہے کہ حد بندی کنٹرول کو مستحکم کرنے کے لیے کی گئی تھی‘‘۔

                وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ ایک الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ان کے منصوبے مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکے، اور سریندر چوہدھری جیسے لوگ (موجودہ نائب وزیر اعلیٰ) کامیاب ہوئے، تاکہ ایسے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے‘‘۔

                عمرعبداللہ نے کہا کہ ان کی جماعت ایسے مسائل کو اٹھاتی رہے گی۔ انہوں نے کہا ’’اسی لیے ہم ان کا مقابلہ کرتے ہیں، ہم سوال اٹھاتے ہیں۔ اور جب ہم ایسا کرتے ہیں تو وہ راحت محسوس نہیں کرتے وہ خوش نہیں ہوتے۔‘‘

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

سرینگر میں پانی کی بندش مؤخر

Next Post

اسمارٹ سٹی بس سروس کی توسیع کیخلاف ’چکہ جام‘  

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج
اہم ترین

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

2026-07-21
جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری
اہم ترین

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

2026-07-21
 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب
اہم ترین

 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب

2026-07-21
جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی
اہم ترین

جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی

2026-07-21
 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر
اہم ترین

 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر

2026-07-21
 موجودہ شکل میں سندھ   طاس معاہدہ دوبارہ نافذ   نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع
اہم ترین

 موجودہ شکل میں سندھ  طاس معاہدہ دوبارہ نافذ  نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع

2026-07-21
چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا  نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے
اہم ترین

چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے

2026-07-21
سے ۵۱اگست تک جموں صوبے میں شدید بارشوں کا امکان خراب موسم کے باعث پونچھ میں دوسرے روز بھی اسکول بند رہے
اہم ترین

 شدید بارش، آندھی اور بجلی گرنے کے خدشات کے باعث بجلی کے کھمبوں، تاروں اور  ٹرانسفارمروںسے دور رہنے کی اپیل 

2026-07-21
Next Post
اسمارٹ سٹی بس سروس کی توسیع کیخلاف ’چکہ جام‘   

اسمارٹ سٹی بس سروس کی توسیع کیخلاف ’چکہ جام‘  

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.