(ویب ڈیسک )
سرینگر؍۱۸؍اپریل
سرینگر پولیس نے ہفتہ کے روز ضلع بھر کے اسپتالوں کے گردونواح میں واقع کیمسٹ شاپس اور ادویات کے اداروں کا جامع معائنہ کیا۔
یہ کارروائی جاری’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘ کا حصہ ہے، جس کا مقصد منشیات کا خاتمہ کرنا ہے۔
پولیس کے مطابق، ٹیموں نے مختلف طبی اداروں میں اسٹاک رجسٹر، خرید و فروخت کا ریکارڈ، میعاد والے لائسنس اور دیگر لازمی دستاویزات کی تفصیلی جانچ پڑتال کی۔ اس جانچ کا بنیادی مقصد بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنا اور ان ادویات کی غیر قانونی فروخت یا غلط استعمال کو روکنا ہے جو نوجوانوں میں نشہ خوری کا سبب بن سکتی ہیں۔
حکام کے مطابق کنٹرولڈ اشیاء کی غیر قانونی ملکیت، فروخت یا تقسیم میں ملوث کسی بھی خلاف ورزی پر این ڈی پی ایس ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ سری نگر پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کی معائنہ مہم باقاعدگی سے جاری رکھی جائے گی تاکہ جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے، قانونی طریقہ کار کو فروغ ملے اور عوامی صحت و سلامتی کا تحفظ ہو، اسی کے ساتھ کیمسٹ حضرات کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ درست ریکارڈ برقرار رکھیں، مقررہ اصولوں کی سختی سے پابندی کریں اور ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
یہ مہم وادی میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے اور فارمیسیوں کے ذریعے ہونے والی ممکنہ غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ کی ایک اہم کوشش سمجھی جا رہی ہے۔
ادھرجموں میں منشیات کیخلاف جاری کارروائیوں کے تحت مقامی انتظامیہ نے ایک مبینہ منشیات فروش کی رہائشی جائیداد کو بھاری سکیورٹی انتظامات کے درمیان مسمار کر دیا۔
حکام کے مطابق یہ اقدام خطے میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے اور اس سے جڑے مالی نیٹ ورک کو توڑنے کی مہم کا حصہ ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بیلی چرنا علاقے میں شمس الدین عرف پپّی کی ملکیت مکان کو بلڈوزروں کی مدد سے منہدم کیا گیا۔
کارروائی کے دوران پولیس اور انتظامیہ کی بھاری نفری موقع پر موجود تھی۔ حکام نے بتایا کہ مکان کے علاوہ گھاس پھوس سے بنے ڈھانچے بھی ہٹائے گئے اور کچھ دو پہیہ گاڑیاں ضبط کی گئیں۔
مقامی تحصیلدار نے میڈیا کو بتایا کہ شمس الدین، جو اس وقت جیل میں بند ہے، منشیات سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث تھا اور اس کی جائیداد مبینہ طور پر غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی آمدنی سے تعمیر کی گئی تھی، اسی بنیاد پر اسے مسمار کیا گیا۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے۱۱؍اپریل کو شروع کی گئی۱۰۰ روزہ ’نشہ مکت جموں و کشمیر ابھیان‘ کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، جس کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ پر قابو پانا اور اس کاروبار سے جڑے عناصر کے مالی وسائل کو ختم کرنا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران جموں خطے میں۱۵۰سے زائد منشیات فروشوں کی جائیدادیں ضبط یا مسمار کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ حال ہی میں لیفٹیننٹ گورنر نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ ہر تھانے کی سطح پر سرکردہ منشیات فروشوں کی فہرست تیار کر کے۳۰ دن کے اندر ان کے نیٹ ورکس کو ختم کیا جائے۔
انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رہیں گی، جن میں پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس، آدھار کارڈ اور اسلحہ لائسنس کی منسوخی جیسے اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔










