ایجنسیز
نئی دہلی؍۱۷؍اپریل
مرکزی حکومت نے جمعہ کو خواتین ریزرویشن ایکٹ۲۰۲۳کے نفاذ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے تحت جموں و کشمیر اور دیگر مرکزی زیر انتظام علاقوں میں اسمبلیوں میں خواتین کے لیے۳۳فیصد ریزرویشن فراہم کیا جائے گا۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جموں و کشمیر کے لیے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا’’جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن (دوسری ترمیمی) ایکٹ۲۰۲۳کی دفعہ (۱)ی ذیلی دفعہ(۲) کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے مرکزی حکومت۱۷؍اپریل۲۰۲۶کو اس ایکٹ کے نفاذ کی تاریخ مقرر کرتی ہے‘‘۔
اسی طرح وزارت نے یوٹیز کے لیے بھی ایک علیحدہ نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں کہا گیا’’گورنمنٹ آف یونین ٹیریٹریز (ترمیمی) ایکٹ۲۰۲۳کی دفعہ(۱)کی ذیلی دفعہ(۲) کے تحت۱۷؍اپریل۲۰۲۶سے اس قانون کا اطلاق ہوگا‘‘۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پارلیمنٹ میں اس قانون میں ترامیم سے متعلق بلوں پر بحث جاری ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر۲۰۲۳میں پارلیمنٹ نے ’ناری شکتی وندن ادھنییم‘ کے نام سے معروف خواتین ریزرویشن بل کو منظور کیا تھا، جسے خواتین کی قانون ساز اداروں میں نمائندگی بڑھانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا گیا تھا۔
اس قانون کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ تاہم۲۰۲۳کے قانون کے مطابق یہ ریزرویشن۲۰۲۷کی مردم شماری کے بعد ہونے والی حد بندی کے مکمل ہونے سے پہلے نافذ نہیں ہونا تھا، جس کے باعث اس کا اطلاق۲۰۳۴ سے پہلے ممکن نہیں تھا۔
فی الوقت لوک سبھا میں زیر بحث تین بلوں کا مقصد خواتین کے لیے اس ریزرویشن کو۲۰۲۹تک عملی شکل دینا ہے۔
ایجنسیز
نئی دہلی؍۱۷؍اپریل
مرکزی حکومت نے جمعہ کو خواتین ریزرویشن ایکٹ۲۰۲۳کے نفاذ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے تحت جموں و کشمیر اور دیگر مرکزی زیر انتظام علاقوں میں اسمبلیوں میں خواتین کے لیے۳۳فیصد ریزرویشن فراہم کیا جائے گا۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جموں و کشمیر کے لیے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا’’جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن (دوسری ترمیمی) ایکٹ۲۰۲۳کی دفعہ (۱)ی ذیلی دفعہ(۲) کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے مرکزی حکومت۱۷؍اپریل۲۰۲۶کو اس ایکٹ کے نفاذ کی تاریخ مقرر کرتی ہے‘‘۔
اسی طرح وزارت نے یوٹیز کے لیے بھی ایک علیحدہ نوٹیفکیشن جاری کیا، جس میں کہا گیا’’گورنمنٹ آف یونین ٹیریٹریز (ترمیمی) ایکٹ۲۰۲۳کی دفعہ(۱)کی ذیلی دفعہ(۲) کے تحت۱۷؍اپریل۲۰۲۶سے اس قانون کا اطلاق ہوگا‘‘۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پارلیمنٹ میں اس قانون میں ترامیم سے متعلق بلوں پر بحث جاری ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر۲۰۲۳میں پارلیمنٹ نے ’ناری شکتی وندن ادھنییم‘ کے نام سے معروف خواتین ریزرویشن بل کو منظور کیا تھا، جسے خواتین کی قانون ساز اداروں میں نمائندگی بڑھانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا گیا تھا۔
اس قانون کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ تاہم۲۰۲۳کے قانون کے مطابق یہ ریزرویشن۲۰۲۷کی مردم شماری کے بعد ہونے والی حد بندی کے مکمل ہونے سے پہلے نافذ نہیں ہونا تھا، جس کے باعث اس کا اطلاق۲۰۳۴ سے پہلے ممکن نہیں تھا۔
فی الوقت لوک سبھا میں زیر بحث تین بلوں کا مقصد خواتین کے لیے اس ریزرویشن کو۲۰۲۹تک عملی شکل دینا ہے۔










