(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۱۶؍اپریل
پاکستان میں قائم کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے شریک بانی امیر حمزہ لاہور میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں کی فائرنگ میں زخمی ہو گئے، پولیس نے جمعرات کو بتایا۔
امیر حمزہ کو لشکرِ طیبہ کے سربراہ حافظ سعید کے بعد تنظیم کا دوسرا اہم ترین رہنما سمجھا جاتا ہے۔ حافظ سعید۲۰۱۹ سے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمات میں سزا کاٹ رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے نجی ٹی وی چینل۲۴ نیوز ایچ ڈی کی گاڑی پر فائرنگ کی، جو وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملکیت ہے۔ اس گاڑی میں چینل کے مذہبی پروگرام کے میزبان جسٹس (ر) نذیر احمد غازی اور امیر حمزہ سوار تھے۔
پولیس نے بتایا کہ’’دو نامعلوم مسلح افراد نے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر پیکو روڈ پر اس سفید گاڑی پر فائرنگ کی جس میں غازی اور حمزہ سفر کر رہے تھے۔ اس حملے میں حمزہ زخمی ہوئے جبکہ غازی محفوظ رہے‘‘۔
زخمی امیر حمزہ کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے حملہ آوروں کی تلاش کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ٹی وی چینل کے مطابق جسٹس نذیر احمد غازی اس واقعے میں محفوظ رہے جبکہ مولانا امیر حمزہ کے بازو پر گولی لگی۔ غازی پروگرام’نورِ سحر‘ کی ریکارڈنگ مکمل کرنے کے بعد گھر جا رہے تھے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔
پاکستان مرکزی مسلم لیگ، جو حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ کا سیاسی ونگ سمجھی جاتی ہے، نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی رہنماؤں، جن میں حافظ طلحہ سعید بھی شامل ہیں، نے کہا کہ دن دہاڑے فائرنگ کا واقعہ پنجاب حکومت کی سکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے اور حکام کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حملہ آوروں کو جلد گرفتار کیا جائے اور مذہبی شخصیات کو مناسب سکیورٹی فراہم کی جائے۔
امیر حمزہ کو امریکہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔ ماضی میں وہ لشکرِ طیبہ کے ’اسپیشل کیمپینز‘ شعبے کے سربراہ رہ چکے ہیں اور۲۰۱۸میں جماعت الدعوۃ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی کے بعد انہوں نے فنڈ جمع کرنے کے لیے ایک نیا گروپ قائم کیا تھا۔










