یہ آبگاہ آلودگی، تجاوزات اور سائنسی منصوبہ بندی کی کمی کے باعث تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے: سی اے جی
(ویب ڈیسک)
جموں؍۱۶؍اپریل
کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) نے ہوکرسر جھیل پر بڑے پیمانے پر تجاوزات اور ماحولیاتی بگاڑ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اہم آبی ذخیرہ تیزی سے زوال پذیر ہے اور اس کی’اصل خوبصورتی‘ معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
سی اے جی نے حکام کو جھیل کے تحفظ اور انتظام میں ناکامی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ ماحولیاتی لحاظ سے اہم ویٹ لینڈ آلودگی، تجاوزات اور سائنسی منصوبہ بندی کی کمی کے باعث تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
یونین ٹیریٹری میں جھیلوں کے تحفظ سے متعلق۲۰۲۳۔۲۴کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مناسب سروے اور حد بندی نہ ہونے کی وجہ سے تجاوزات میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً۲۵۲۸ء۱۰ کنال جھیل کے رقبے پر تعمیرات، شجرکاری اور زرعی سرگرمیوں کے لیے قبضہ کیا گیا ہے، اور نوٹس جاری کرنے کے باوجود حکام تجاوزات ہٹانے میں ناکام رہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جامع تحفظ اور انتظامی منصوبہ نہ ہونے کے باعث زمین کے استعمال میں بڑی تبدیلیاں آئیں، جس سے جھیل کی صحت متاثر ہوئی۔
سی اے جی نے نشاندہی کی کہ آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی نہ ہونا، گاد کے بہاؤ کو روکنے کے اقدامات کی کمی، ڈریجنگ نہ ہونا اور جھیل کے اندر فلڈ سپل چینل کی تعمیر جیسے عوامل نے کھلے پانی کے رقبے میں کمی پیدا کی۔
۲۰۱۴ سے۲۰۲۰کے درمیان زمین کے استعمال میں تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ کھلے پانی کا رقبہ۷ فیصد کم ہوا، جبکہ جھاڑیوں کا رقبہ۱۱۵۷ فیصد، آبی پودوں میں۴۲فیصد اور گاد میں۱۰۴فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ انسانی دباؤ اور بغیر صفائی کے سیوریج کا داخل ہونا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ جھیل کے لیے کوئی جامع تحفظی منصوبہ تیار نہیں کیا گیا، بلکہ محکمہ جنگلی حیات سالانہ منصوبوں پر انحصار کرتا رہا جو بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہے۔
سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ جھیل کے اطراف حاجی باغ، سوئی بگ اور ایچ ایم ٹی (زیناکوٹ) علاقوں میں تعمیرات میں اضافہ ہوا، جہاں سیوریج ٹریٹمنٹ کی سہولیات موجود نہیں، جس سے آلودگی میں مزید اضافہ ہوا۔
سی اے جی نے فلڈ مینجمنٹ نظام میں خامیوں کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ پادشاہی باغ میں فلڈ سپل چینل کی گنجائش۱۷ہزار کیوسک سے کم ہو کر۶ہزار کیوسک رہ گئی ہے، جس کی وجہ گاد اور ملبہ ہے۔
۲۰۱۸سے۲۰۲۲کے درمیان۴۶ء۲۹ کروڑ روپے خرچ کیے جانے کے باوجود اہم کام جیسے ہائیڈرولک گیٹس، سیلٹ بیسن اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس مکمل نہیں کیے گئے، جس سے پانی کے بہاؤ اور معیار پر اثر پڑا۔
محکمہ جنگلات نے جواب میں کہا کہ ویٹ لینڈز کے ماحولیاتی کردار کو برقرار رکھنے کے لیے پالیسی زیر غور ہے اور تجاوزات ہٹانے اور غیر ضروری پودوں کو صاف کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مقامی آبی حیات میں کمی، غیر مقامی پودوں کی افزائش اور پانی میں آکسیجن کی سطح میں کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔
سی اے جی نے سفارش کی کہ آلودگی کے ذرائع کی فوری نشاندہی اور علاج، سائنسی بنیادوں پر ڈریجنگ، اور جامع سروے و حد بندی کے ذریعے تجاوزات کو روک کر۲۵۲۸کنال رقبہ واپس حاصل کیا جائے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ جھیل کے ماحولیاتی توازن اور معاشی اہمیت کے تحفظ کے لیے ایک جامع منصوبہ ناگزیر ہے۔
ہوکرسر جھیل سرینگر اور بڈگام اضلاع میں واقع ہے اور اسے دودھ گنگا اور سخناگ نالہ سے پانی ملتا ہے۔ یہ جھیل۱۹۴۵میں نوٹیفائی کی گئی تھی اور بعد میں اسے کنزرویشن ریزرو قرار دیا گیا۔










