نئی دہلی، 14 اپریل (یو این آئی) لکھنؤ کی ایک خصوصی این آئی اے عدالت نے 2021 کے القاعدہ سے وابستہ انتہا پسندی اور بھرتی کے معاملے میں مزید تین ملزمان کو سزا سنائی ہے۔
قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) عدالت نے پیر کو ملزم مشیر الدین عرف راجو (لکھنؤ)، منہاج احمد عرف منہاج (لکھنؤ) اور توحید احمد شاہ عرف سوبو شاہ (بڈگام) کو پانچ سال کی قید بامشقت سے لے کر عمر قید تک کی مختلف سزائیں سنائیں۔ تمام سزائیں بیک وقت چلیں گی اور عدالت نے ہر مجرم پر 20,000 روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ ان تینوں کو تعزیراتِ ہند (آئی پی سی )، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ (یواے پی اے )، دھماکہ خیز اشیاء کے ایکٹ اور آرمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مجرم قرار دیا گیا۔ کیس کے تین دیگر ملزمان شکیل، محمد مستقیم اور محمد معید کو آرمز ایکٹ کے تحت اپنا جرم قبول کرنے کے بعد پہلے ہی مجرم قرار دیا جا چکا تھا۔ این آئی اے نے 2022 میں دو چارج شیٹ کے ذریعے تمام چھ ملزمان کے خلاف فردِ جرم داخل کی تھی۔
یہ معاملہ اصل میں اتر پردیش پولیس نے جولائی 2021 میں اتر پردیش انسداددہشت گردی دستہ (اے ٹی ایس ) کے ذریعے ممنوعہ القاعدہ دہشت گرد تنظیم کے ارکان مشیر الدین اور منہاج کی گرفتاری کے بعد درج کیا تھا۔ تحقیقات میں پتا چلا کہ یہ دونوں لکھنؤ میں القاعدہ کے ایک ماڈیول کے طور پر ‘انصار غزوۃ الہند’ قائم کرنے کے لیے نوجوانوں کو انتہا پسند بنانے اور بھرتی کرنے میں ملوث تھے۔ اس سازش کا مقصد 2021 کی یومِ آزادی کی تقریبات سے قبل دارالحکومت لکھنؤ سمیت اتر پردیش کے مختلف شہروں میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینا تھا۔ این آئی اے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ منہاج کو توحید اور ایک اور ملزم عادل نبی تیلی عرف موسیٰ نے انتہا پسند بنایا تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ مشیر الدین نے منہاج کے کہنے پر وفاداری کا حلف لیا تھا۔ اس کے بعد، ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کے تحت مشیر الدین اور منہاس نے شکیل، مستقیم اور معید کی مدد سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد جمع کیا تھا۔
واضح رہے کہ ملزم موسیٰ، جو لشکرِ طیبہ کی ذیلی تنظیم ٹی آر ایف سے وابستہ تھا، مارچ 2022 میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا تھا۔










